The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی ممبران پرحسین نواز کےاعتراضات مسترد کردیئے

اسلام آباد : جے آئی ٹی کے دو ارکان پر حسین نواز کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز اور طارق شفیع کی جانب سے پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کے دوارکان پر اعتراض کے حوالے سے درخواست کی سماعت ہوئی جس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

بینچ نے صدر نیشنل بینک سعید احمد، کاشف محمود قاضی اور حماد بن جاسم کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمن جاری ہونے کے باوجود جو بھی پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے روبرو پیش نہ ہو اس کے پہلے قابل ضمانت اور پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں۔

جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے جسٹس عظمت سعید کے استفسار پر بتایا کہ کاشف مسعود کو سیکیورٹی خدشات ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ تحفظات ہیں تو آپ انتظامات کریں اور آئندہ جو حاضر نہ ہو اس کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کریں۔


*حسین نواز نے جے آئی ٹی کے اراکین پر اعتراض اٹھا دیا


اس موقع پر حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کی جانب سے قائم کی گئی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ ہرممکن تعاون کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ حسین نواز سعودی عرب سے آئے اور انھیں پیش ہونے کا حکم نامہ ملا دیا فوراً پیش بھی ہوگئے۔

تاہم معززعدالت کو اس جانب بھی توجہ دینا چاہیے کہ تحقیقات اور گواہوں کے ساتھ رویے میں توازن برقرار رہے اور جیسا طارق شفیع کے ساتھ ہوا جنہیں 13 گھنٹے تک بٹھایا گیا اور انہیں اپنا بیان حلفی واپس لینے کو کہا گیا اوردورانِ تفتیش دباؤ ڈالا جاتا رہا جو کہ قطعی نامناسب ہے۔

حسین نواز کے وکیل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کے ممبران کو غیرجانبدار ہوکر کام کرنا چاہیے اور جن ارکان پراعتراض ہو انہیں تبدیل کیا جانا انصاف کا تقاضہ ہے اور اس قبل بھی سپریم کورٹ نے کئی مقدمات میں بدنیتی ثابت ہونے پر افسران تبدیل کیے۔

اس موقع پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ طارق شفیع کو تفتیش کے لیے بلایا گیا تھا چائے پلانے کے لیے اگر آپ کے اعتراضات درست مان لیے جائیں تو کسی فرشتے کو جے آئی ٹی کا ممبر بنانے پڑے گا ہر انسان کے کسی نہ کسی سے تعلقات ہوتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ تحقیقات کرنے والے نے تعلقات مقدم رکھے یا انصاف کے تقاضوں کو پوری طرح نبھایا؟۔

انہوں نے مذید کہا کہ کسی کو ہراساں کرنا کسی طور مناسب عمل نہیں اس لیے ہماری خواہش ہے کہ تفتیش کے لیے پیش ہونے والے ہر شخص کی عزت کی جائے جس کے لیے ہم نے جے آئی ٹی کوہدایات جاری کر دی ہیں تاہم یہ بھی ذہن نشین رہے کہ جے آئی ٹی کو 60 دن میں کام مکمل کرنے کا کہا ہے جس کے لیے ٹیم دن رات کام کر رہی ہے اور کوئی چھٹی بھی نہیں کر رہی ہے۔

حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے طارق شفیع کا بیان حلفی پڑھ کر سنایا توعدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ بیان حلفی درست ہے یا نہیں، آپ ٹیم کے ایک ممبر کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اپنا کام کرنا جانتے ہیں۔

جس پر خواجہ حارث نے عدلات سے استدعا کی کہ اس کیس میں وڈیو آڈیو ریکارڈنگ کی جارہی ہے لہذا معزز عدالت اس کو دیکھ سکتی ہے کہ کہاں اور کیسے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور بیان حلفی لیا جا رہا ہے اس معاملے پر آئین کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔

عدالت نے فائنل ریمارکس میں حسین نواز اور طارق شفیع کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کے کسی ممبر کو تبدیل نہیں کررہے ہیں ہم جے آئی ٹی کو قانون اور آئین کے مطابق کارروائی جاری رکھنے اور جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والے ہر فرد کی عزت نفس کا خیال رکھنے کی ہدایت دیتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں