جہانگیرترین کی نظرثانی کی درخواست مسترد، نااہلی برقرار
The news is by your side.

Advertisement

جہانگیرترین کی نظرثانی کی درخواست مسترد، نااہلی برقرار

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے جہانگیرترین کی نظرثانی کی درخواست مسترد کردی اور نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا, چیف جسٹس نےکہاجودستاویزآپ سےپہلےمانگ رہےتھے، وہ بعدمیں ملی توکیانظرثانی کا جوازہے؟

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں جہانگیرترین نااہلی پر نظرثانی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی ، سماعت میں چیف جسٹس نے کہا یہ دستاویزات پہلے کہاں تھے، ٹرسٹ ڈیڈ بھی آپ نے کیس کے آخری لمحے میں دی تھی۔

وکیل جہانگیر ترین نے کہا دستاویزات ٹرسٹ کے تھے اور ٹرسٹی کے قبضےمیں تھے، جس پر چیف جسٹس نے کہا اس کی آرائش آُپ نے کی، سب کچھ آپ نے کیا تھا، آپ کے پاس 20 منٹ ہیں، جہانگیرترین کے وکیل کا کہنا تھا کہ دستاویزات عدالت میں پیش کررہاہو۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے جعلی قسم کی کمپنیاں بنالی اورلوگوں کو جھانسہ دیا، ایچ ایس بی سی کس نے بنائی، وکیل جہانگیرترین نے جواب دیا 2011ایچ ایس بی سی انٹرنیشنل ٹرسٹی نے بنائی۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا سارا کا سارا فراڈ ہے ، آپ پبلک آفس ہولڈر تھے، آپ نے پیسے باہربھیج دئیے، جہانگیر ترین کے وکیل نے بتایا کہ سارا کا سارا پیسہ صاف اور ظاہری بھیجا گیا، لیگل چینل سے پیسہ باہر بھیجنا کوئی جرم نہیں، میرے موکل نے ٹرسٹ سے متعلق دستاویزات دی ہیں۔

چیف جسٹس نے جہانگیر ترین کے وکیل سے مکالمہ میں کہا ہم مقدمے کو ازسرنونہیں سن رہے، مہربانی کرکے ازسرنومقدمہ نہ لڑیں اجازت نہیں ملے گی، پیسے چھپوانے کی ڈیوائس بنالی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا باہر فلیٹ آپ نے بنائے، تعمیر خود کرائی،رہتے وہاں ہیں، آپ نے ظاہری شناخت چھپا کر تفصیلات ظاہرنہیں کیں، ہم جہانگیر ترین کی ٹرسٹ ڈیڈ کو درست تسلیم نہیں کررہے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یادرکھیں ہم مقدمہ ازسرنو نہیں سن رہے، نئے دستاویزات نظرثانی میں دائر نہیں کیے جاسکتے، اب آپ جھانسہ دے رہے ہیں، کمپنی جہانگیرترین نے بنائی، کیا لندن فلیٹس کی آف شور کمپنی فرشتے بنا کر چلے گئے، ہم نے دستاویزات دینے کے لیے کئی مواقع فراہم کیے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے آپ خود اپنے دلائل میں واضح نہیں ہیں، کمپنی کس نے بنائی،ایچ ایس بی سی نے آف شورکمپنی بنائی، کمپنی کیسے بنتی ہے، اس کا پہلے بھی پوچھا تھا، ایک آفس ہولڈر نے دھوکا دہی کرکے پیسہ باہربھجوایا۔

جسٹس عمرعطابندیال کا کہنا تھا کہ پہلے آپ نے کہا تھا آپ کونہیں پتا، جس پر وکیل جہانگیرترین نے کہا ابھی میرے ذہن میں نام آیا توجسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیئے زیادہ پرجوش نہ ہوں، ایک بڑی رقم کو پاکستان سے باہر لے جایا گیا، عام شخص کی حیثیت سےآف شورکمپنی کےاثرات مختلف تھے،عدالت
ایک آفس ہولڈر کے لیے اثاثے ظاہر کرنا لازم ہے۔

سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا۔

جہانگیرترین کےوکیل نے ٹرسٹ ڈیڈ عدالت میں پیش کردی ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہم یہ دستاویزآپ سےپہلےمانگ رہے تھے، جس پر وکیل جہانگیرترین کا کہنا تھا کہ ہم یہ دستاویزپہلے فراہم نہیں کرسکے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا محاورہ ہے جوتھپڑ لڑائی کے بعد یاد آئے وہ کسے مارنا چاہیے، دستاویز آپ کو بعد میں ملی تو کیا نظر ثانی کا جوازہے؟

مزید پڑھیں : جہانگیرترین کی نااہلی کیخلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر

یاد رہے 15 دسمبر 2017 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف اور پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد وہ کوئی عوامی عہدہ یا پھر اسمبلی رکنیت رکھنے کے مجاز نہیں رہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ جہانگیرترین کو دو نکات پر نااہل کیا گیا ہے، انہوں نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے جھوٹ بولا۔

بعد ازاں جہانگیرترین نے نااہلی کیخلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائرکردی، جہانگیر ترین نے بیان حلفی بھی جمع کرایا تھا، جس میں موقف اختیار کیا تھا کہ کاغذات نامزدگی میں جان کراثاثے چھپانےکی کوشش نہیں کی۔ ٹرسٹ کے قیام کا مقصد بچوں کوبرطانیہ میں گھر کی فراہمی تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں