The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے مختاراں مائی کی ملزمان کی بریت پر نظرثانی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ملزمان کی بریت پرمختاراں مائی کی نظرثانی درخواست مسترد کردی، جسٹس گلزار احمد نے کہا اپیل میں اٹھائے گئےنکات نظر ثانی میں نہیں لیے جا سکتے، نظرثانی میں صرف فیصلےکی غلطی کا بتایا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے مختاراں مائی کیس کی سماعت کی ، سماعت میں عدالت نے مختاراں مائی کی ملزمان کی بریت پر نظرثانی درخواست مسترد کردی۔

جسٹس گلزاراحمد نے وکیل سے مکالمے میں کہا درخواست میں نکات کوکسی دوسرے کیس میں زیر غور لائیں گے، اپیل میں اٹھائے گئےنکات نظر ثانی میں نہیں لیے جا سکتے، نظرثانی میں صرف فیصلےکی غلطی کابتایاجاتاہے،آپ کیس مختصر کریں ورنہ دس سال یونہی پڑارہے گا۔

وکیل اعتزاز احسن نے جواب میں کہا فیصلے میں لکھا گیا مختاراں مائی پر زخم کا کوئی نشان نہیں، ریکارڈ سے بتاؤں گا کہ جسم پر زخم کے نشان تھے، جرم دور دراز علاقے میں ہوا تھا۔

واضح رہے سنہ 2002 میں پنچایت کے حکم پر مختاراں مائی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد مختاراں مائی نے 14 ملزمان پر زیادتی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

اگست 2002 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 6 ملزمان سزائے موت سنائی تھی جبکہ دیگر 8 افراد کو بری کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں 2005 میں لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے 5 ملزمان کی نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں بری کردیا تھا جبکہ ایک ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

مختاراں مائی نے 5 ملزمان کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں، جس پر اپریل 2011 میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔

خیال رہے مختاراں مائی نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں، جس میں کہا تھا سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیافیصلہ انصاف کی بہت بڑی ناکامی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں