The news is by your side.

Advertisement

باپ کے ہاتھوں بیٹیوں کا اغوا کیس :’آئندہ سماعت تک بچیاں نہ ملیں تو آئی جی سندھ کے خلاف کارروائی ہوگی’

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے باپ کے ہاتھوں اغواشدہ دو بچیوں کی بازیابی کے کیس میں سندھ پولیس اور جے آئی ٹی کی پیشرفت رپورٹ مسترد کردی اور کہا آئندہ سماعت تک بچیاں ٹریس نہ ہوئیں توآئی جی سندھ کیخلاف کارروائی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کراچی سے باپ کے ہاتھوں اغواشدہ دو بچیوں کی بازیابی کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے سندھ پولیس اور جے آئی ٹی کی پیشرفت رپورٹ مسترد کردی۔

عدالت نے کہا پرانی رپورٹ ہی الفاظ کا ہیر پھیر کرکے دوبارہ جمع کرائی گئی، پیشرفت رپورٹ میں تحقیقات کے حوالے سےکوئی ٹھوس موادنہیں۔

دوران سماعت عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی 2ہفتے کا وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا آئندہ سماعت تک بچیاں ٹریس نہ ہوئیں توآئی جی سندھ کیخلاف کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس نے ایس ایس پی ساؤتھ کراچی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا پولیس کی دلچسپی ہوتی تو 5سال سے ماں دھکے نہ کھا رہی ہوتی، آج کی دور میں کسی کو تلاش کرنا کونسا مشکل کام ہے، 5سال گزر گئے ایک شخص قانون سے بھاگا ہواہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا ملزم آصف بلوچ کو اسکے موبائل اور بینک ٹرانزیکشنز سےٹریس کیا؟ جسٹس سجاد علی شاہ نے بھی سوال کیا 5سال سے ملزم کی مالی امداد کون کر رہا ہے؟

ایس ایس پی ساؤتھ نے بتایا کہ ملزم سے رابطے میں رہنے والوں سے پوچھ گچھ کی ہے، کراچی میں ایک جگہ چھاپہ مارا توپولیس کیخلاف ہی کارروائی ہوگئی، جے آئی ٹی سربراہ کا تعلق آئی بی سے ہے۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس میں کہا صرف عقلمندی سےتفتیش کی ضرورت ہے، جس پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ
ممکن ہےملزم نےشناختی کارڈ تبدیل کرا لیا ہو، عدالت نادرا کو نوٹس کرے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کیا سندھ حکومت نادرا سے خود معلومات نہیں لے سکتی؟عدالت نےآئی جی سندھ، جے آئی ٹی سربراہ اور ارکان کو طلب کرتے ہوئے کہا تمام افسران آئندہ سماعت پربذریعہ ویڈیولنک پیش ہوں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے مزید سماعت 2ہفتے کےلیےملتوی کر دی ، مہرین بلوچ نےسابق شوہر سےبچیوں کی بازیابی کےلیےعدالت سے رجوع کررکھا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں