The news is by your side.

Advertisement

ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، چیف جسٹس نے کہا کہ عطاالحق قاسمی کو دی گئی دو سالہ مراعات کا آڈٹ کیا جائے، آڈٹ حضرات پیرتک بتائیں آڈٹ رپورٹ کب تک مکمل ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد سے استفار کیا کہ ایم ڈی پی ٹی وی کا تقرر کس قانون کے تحت ہوا، کیا سرکاری کام زبانی حکم پر ہوتے ہیں، بیورو کریٹس کو کچھ کہیں تو ہڑتال کرتےہیں، حالت یہ ہے اتنے بڑے بیورو کریٹ کو قانون کا پتہ نہیں۔

فواد حسن فواد نے کہا مجھ سے پہلے دو دہائیوں سے اسی طرز پر کام ہورہا ہے۔

چیف جسٹس نے فواد حسن فواد کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کھڑے ہو جاؤ، کیانام ہے تمہارا ، جس کے جواب میں فواد حسن نے کہا کہ میرانام فوادحسن فواد ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی کتاب دی جائے فواد حسن صاحب کو، اس میں سےپڑھ کرسنائیں زبانی احکامات پر کام کیسےہوتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس مین کہا کہ تکلیف ہوتی ہےکہ ہم بیوروکریٹس کی بےعزتی کرتے ہیں، آپ مجھےرولزبتائیں، بڑےبیورو کریٹ کا حال ہے، جس کو رولز نہیں پتا، وزیراعظم نے وزارت اطلاعات کی سمری کو دیکھا نہ ہی کوئی نوٹنگ لکھی، عطاالحق قاسمی کی تعیناتی میں وزیراعظم کی تحریری منظوری نہیں لی گئی۔

ایڈیشنل اےجی نے بتایا کہ عطاالحق قاسمی کی منظوری وزارت اطلاعات کی سمری پرہوئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رولز دکھا دیں چیئرمین کو ملنے والے 5ہزار کو 15 لاکھ کیسےکردیاگیا، امریکی صدر کو بھی یہ اختیار نہیں وزیراعظم کو کیسے یہ اختیار دیدیں۔


مزید پڑھیں : ایم ڈی پی ٹی وی کی تنخواہ اورمراعات کا مکمل آڈٹ کرانے کا حکم


فواد حسن فواد نے بتایا ایم ڈی پی ٹی وی کو ادائیگی وزیراعظم کے زبانی حکم پر دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا قانون دکھا دیں ورنہ نواز شریف کو نوٹس جاری کر دیتے ہیں، نوازشریف وزیراعظم تھے آکر نتائج بھگتیں، ان کا سیکریٹری کھڑے ہو کر کہہ دیتا ہےزبانی حکم پررقم دی گئی۔

چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ تقرر کس قانون کے تحت ہوا، جس پر فواد حسن فواد نے جواب دیا کہ تقرر بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کیا، واضح طور پر دو بیانات دے رہا ہوں آپ نوٹ کر لیں، تقرر کی سمری بورڈ نے بھیجی،اسٹیبلشمنٹ اور فنانس اسکی توثیق کی، اس کے بعد وزیراعظم نے منظوری دی، عطا الحق قاسمی کے تقرر کی ہدایت میں نے کی نہ ہی وزیراعظم نے۔

چیف جسٹس نے پرویز رشید سے استفسار کیا آپ نے وکیل کرلیا ہے؟پرویزرشیدنےکہا جی نہیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل ہی جواب دیں گے، جس پر چیف جسٹس نے کہا سوچ لیں آپ پر بھی آرٹیکل باسٹھ کا معاملہ ہوسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ تقرری غلط ہوئی توتناسب سےتقرری کرنیوالےپیسےواپس کریں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمری سیکریٹری نے سائن کی تھی، جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ معاملہ نیب کونہیں بھیجناتوہم خودمعاملےکودیکھ لیتےہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی وی کیلئےعمرکی حد65سال تھی، جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پی ٹی وی کا سربراہ ایم ڈی ہوتا ہے یا چیئرمین ، جس کے جواب میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی ٹی وی کا سربراہ ایم ڈی ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے تقرری کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا ہم بندر بانٹ نہیں ہونے دیں گے، عطا الحق قاسمی کو دی گئی دو سالہ مراعات کا آڈٹ کیا جائے، آڈٹ حضرات پیرتک بتائیں آڈٹ رپورٹ کب تک مکمل ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ستائیس کروڑ کس مد میں دیئے گئے آڈٹ کیا جائے، عطاالحق قاسمی کے بیٹے کو8 لاکھ50ہزار اسکرپٹ رائٹنگ دیا جاتا رہا، عطا الحق قاسمی کے بیٹے ایف بی آرمیں بھی ملازم رہےہیں۔

جس پر وکیل نے کہا کہ ایک پروگرام کااسکرپٹ یاسرپیرزادہ اور عطا الحق قاسمی نے لکھا، جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ آڈٹ کروانے کے لیے کیا ضابطہ کار ہوں گے؟ اخراجات کا آڈٹ کراکے دیکھیں گے یہ قابل وضاحت ہے یا نہیں۔

چسٹس ثاقب نثار نے عطا الحق قاسمی اور بیٹے کو مراعات کے آڈٹ کیلئے ٹرم آف ریفرنس طلب کرلیا اور کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں