site
stats
پاکستان

ضرورت ہوئی تو نوازشریف کو عدالت بلائیں گے‘جسٹس آصف سعید کھوسہ

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناماکیس کی سماعت کل تک کےلیےملتوی ہوگئی،مریم نوازکے وکیل کل بھی اپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پاناماکیس کی سماعت کی۔

جماعت اسلامی کےوکیل توفیق آصف نے پاناماکیس کی سماعت کے آغاز پر آج تیسرے روز وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی سے متعلق عدالت عظمیٰ میں اپنے دلائل دیے۔

توفیق آصف نے پاناماکیس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئےظفر علی شاہ کیس کا حوالہ دیا،جس پر جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ اس کیس میں خالدانورنواز شریف کے وکیل نہیں تھے۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ میں خالد انور کے عدالت میں دلائل بیان کرنا چاہتاہوں،انہوں نے کہا کہ میں اس بات کواجاگرکروں گاخالدانور ان کی وکالت کرتےرہےہیں۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ نےکہا کہ آپ عدالتی فیصلے کی فائنڈنگ بتائیں،انہوں نےکہا کہ وکیل کی کیااستدعا تھی یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ ظفرعلی شاہ کیس میں نوازشریف کو فریق بنایا گیا تھا،جس پرعدالت نے اعتراض کیا تھامگر بات درست تھی۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ آپ کی درخواست میں بھی لکھاگیاتھاخالد انور وکیل تھے،جس پرتوفیق آصف نے کہا کہ ظفر علی شاہ کے فیصلے کو پڑھوں گا۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں ذکر ہےلندن فلیٹس شریف خاندان کے تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ ہماری دلچسپی اس مقدمے میں عدالتی فائنڈنگ پر ہے،جسٹس عظمت سعید نےکہا کہ عدالت نے فیصلے میں مبینہ کرپشن کا ذکر کیا۔انہوں نےکہا کہ مبینہ کرپشن کو فیصلہ نہیں کہہ سکتے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ خالد انور کس کی جانب سے پیش ہو رہے تھے،جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نےکہا کہ وہ ظفر علی شاہ کے وکیل تھے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نےکہا کہ نہیں وکیل صاحب آپ کو پتہ ہی نہیں ہے،آپ نے فیصلہ بھی نہیں پڑھا اور حوالہ دے رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا نواز شریف گڈگورننس میں ناکام ہوئے،جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ آپ قانون کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ خالد انور نے نواز شریف کا دفاع کیا،خالد انور کے پاس نواز شریف کا وکالت نامہ نہیں تھا،انہوں نےکہا کہ لندن فلیٹس التوفیق کیس میں گروی رکھےگئے۔

توفیق آصف نے کہا کہ مجھے پیراگراف 127 پڑھنے کی اجازت دیں،جس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ جو دل کرتا ہے وہ پڑھتے رہیں۔

جماعت اسلامی کے وکیل نےکہا کہ یہ تو اس عدالت نے قوم پر بڑا احسان کیا ہے،جس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ جی ہاں ایسا ہی ہے۔

جسٹس عظمت نےکہا کہ نہ آپ نے فائل دیکھی نہ فیصلہ پڑھا، آپ نے بے بس کر دیا،انہوں نے کہاکہ آپ نے بالکل ہی مذاق بنا لیا ہے کچھ تو پڑھ لیا ہوتا۔

جماعت اسلامی کے وکیل نےکہا کہ پانچ منٹ دیں درستی کرتا ہوں،جس پرجسٹس عظمت سیعد شیخ نےکہا کہ پڑھیں جو آپ کا دل کرتا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہا کہ آپ نے کیس کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے،انہوں نےکہا کہ خالد انور نواز شریف کے نہیں درخواست گزار کے وکیل تھے۔

جماعت اسلامی کے وکیل نےکہا کہ شک ہے دبئی مل کی فروخت سے لندن فلیٹس خریدے گئے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ شک کا فائدہ کس کو جاتا ہے۔

توفیق آصف نےکہا کہ عدالت نواز شریف کو طلب کر کے بیان ریکارڈ کرے،انہوں نےکہا کہ نواز شریف پر تمام درخواست گزاروں کو جرح کا موقع دیا جائے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ جب ہم سب کوسن لیں گےتوفیصلہ کریں گے،انہوں نےکہا کہ ضرورت ہوئی تو نواز شریف کو بلائیں گے ورنہ نہیں۔

سپریم کورٹ کےباہرمسلم لیگ ن کے رہنما کی گفتگو

پاناماکیس کی سماعت کے وقفے کے دوران سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سےگفتگوکرتے ہوئے دانیال عزیز نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے لکھا عمران خان نے تباہی مچائی ہوئی ہے،انہوں نےکہاکہ چھ مرتبہ عمران خان کولکھا گیامگرمنی ٹریل نہیں دی گئی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہناتھاکہ عمران خان نے امریکہ میں کمپنیاں بنائیں اورپیسے پاکستان لائے،انہوں نےکہا کہ عمران خان آپ کے پاس کیا کیا ہے،اب آپ کی تلاشی ہونی ہے۔

دانیال عزیز نےکہا کہ ہمیں پتہ ہے آپ کی دائیں جیب میں کیا ہے اوربائیں میں کیا ہے،انہوں نےکہا کہ جہانگیرترین سند یافتہ کرپٹ آدمی ہیں،وہ اپنے ملازموں کے نام پر کاروبار کرتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہناتھاکہ استثنیٰ یہ مانگ رہے ہیں،نام نوازشریف کا لیا جارہا ہے،انہوں نےکہا کہ ہمارے وکلا اپنے اپنے حصے کاحصہ ضرور بتائیں گے۔

دانیال عزیز کا کہناتھاکہ نوازشریف کے خلاف پہلے بھی دو مرتبہ ایسی چالیں چلی گئیں،انہوں نےکہا کہ جہاں جہاں انتخابات ہوئے مسلم لیگ(ن)کامیابی حاصل کرتی آئی ہے۔

پاناماکیس میں شیخ احسن الدین نےکہا کہ ثبوت سامنے آگئے ہیں عدالت کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے،جس پر جسٹس گلزاراحمدنے استفسارکیاکہ سارے ثبوت کون سے ہیں؟۔

جسٹس آصف کھوسہ نےکہا کہ آپ انہیں ثبوت نہیں میٹریل کہہ سکتے ہیں،جسٹس عظمت نےکہا کہ قانون شہادت کے تحت مواد پرکھنے پر معلوم ہوکہ بڑاحصہ فارغ ہےتو پھرکیاہوگا؟۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہا کہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے عدالت کو کیا طریقہ اختیارکرنا چاہیے ؟جس پر شیخ احسن الدین نےکہا کہ میں طریقہ کار کا تعین کیسے کرسکتاہوں، یہ آپ نے دیکھنا ہے۔

شیخ احسن الدین نےکہا کہ لغت کے مطابق زیر کفالت کی تشریح کرتا ہوں،ایسا شخص جو دوسرے شخص سے سہارا حاصل کرے۔

توفیق آصف آپ کے زیر کفالت ہیں،جسٹس کھوسہ کے ریمارکس پر قہقہے،انہوں نےکہا کہ زیر کفالت پر کسی کی نااہلی کا فیصلہ بھی دکھا دیں۔

شیخ احسن الدین نےکہا کہ 2012میں مریم کے نام پر نواز شریف نے مانسہرہ میں جائیداد خریدی،انہوں نےکہا کہ قطری خط کو ایک شعر میں بیان کروں گا۔

شیخ احسن الدین نےکہاکہ خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو،ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نےکہا کہ شیخ صاحب یہ شعر آپ کی عمر کے مطابق نہیں ہے۔

مریم نوازکے وکیل کے دلائل کا آغاز

پاناماکیس کی سماعت کے دوران مریم نوازکے وکیل شاہد حامد نے مریم نواز کا تحریری بیان عدالت میں پڑھ کر سنا یا جس میں کہاگیا ہےکہ میں شادی شدہ خاتون ہوں،میری شادی 1992میں پاک فوج کے حاضر سروس کیپٹن سے ہوئی۔

مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ میرے شوہر نے بعد میں سول سروس جوائن کر لی،انہوں نےکہا کہ کیپٹن صفدر 1986 میں آرمی میں بھرتی ہوئےآج تک ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے رائے ونڈ میں شمیم اینگری فارمز میں پانچ میں سے ایک رہائش گاہ حاصل کی،اس کی مالک میری دادی تھیں،میرے تین بچےدو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

انہوں نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ بیٹا زیر تعلیم اور ایک بیٹی کی شادی ہو چکی ہے،عدالت نے مریم نواز کا تحریری بیان مسترد کردیا۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی مریم نواز کا تحریری بیان مستردکرتے ہوئےکہا کہ اس پر مریم کے دستخط نہیں اس لیے اس کی اہمیت نہیں ہے۔

مریم نوازکے بیان میں کہا گیاہےکہ 2000میں جلاوطن کیا گیا،میں والدین کے ہمراہ سعودی عرب چلی گئی،انہوں نےکہا کہ میرے شوہر بھی میرے ہمراہ تھے،والد اور شوہر کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نےکہا کہ میرے شوہرکو غیر قانونی طور پر ملازمت سے برطرف کیا گیا،ہم جلاوطنی ختم کر کے واپس آئے اور دوبارہ شمیم ایگری فارم میں رہائش اختیار کی۔

مریم نواز نے کہا کہ میرے شوہر دو ہزار آٹھ اور دو ہزار تیرہ میں ایم این اے منتخب ہوئے،انہوں نےکہا کہ میرے شوہر کی آمدن بطور گورنمنٹ سرونٹ آتی رہی۔

وزیراعظم کی بیٹی نےکہاکہ میرے والد نے جو مجھے تحائف دیےوہ شفقت کے تحت دیے،انہوں نےکہا کہ دیےگئے تحفوں میں والدہ اور بھائیوں کی رضامندی شامل تھی۔

انہوں نےکہا کہ 1992کے بعد سے میں کبھی بھی اپنے والد کے زیر کفالت نہیں رہی،انہوں نےکہا کہ 2013میں کاغذات نامزدگی داخل کرائے اس وقت بھی ان کے زیر کفالت نہیں تھی۔

مریم نوازنےکہا کہ میں کبھی بھی لندن فلیٹس کی بینیفشل آنر نہیں رہی،نہ ہی ان فلیٹس سے کبھی کوئی مالی فائدہ کیا۔انہوں نےکہا کہ لندن فلیٹس کی بینیفیشل مالک ہونے کاجھوٹا الزام عائد کیاگیا۔

انہوں نےکہا کہ درخواست گزار جس دستاویز پر انحصار کر رہا ہے اس کو پہلے ہی مسترد کر چکی ہوں،انہوں نےکہا کہ درخواست گزار جس نے الزام لگائے اس کا اپنا دامن بھی صاف نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ میرے بھائی حسین نواز نے 2 شادیاں کر رکھی ہیں،ایک اہلیہ سے چار اور دوسری سے تین بچے ہیں۔انہوں نےکہا کہ حسین نواز کی دونوں بیویاں مختلف ممالک کی شہریت رکھتی ہیں۔

وزیراعظم کی بیٹی نے اپنے جواب میں کہا کہ حسین نواز اور الثانی خاندان کے درمیان سیٹلمنٹ جنوری 2006 میں ہوئی،انہوں نےکہا کہ سیٹلمنٹ کے بعد منروا کے ڈائریکٹرز کو تعینات کیاگیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ ایک صفحے کا بیان جو آپ نے جمع کرایا اس پر کسی کے دستخط نہیں،اس لیے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

مریم نوازشریف کے وکیل شاہد حامد نےکہا کہ میں دستخط کراکر بیان دوبارہ جمع کروا دوں گا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہمارے سامنے اب فریقین کے 3بیان ہیں۔انہوں نےکہا کہ ایک جواب اور دو ضمنی جوابات اور بیانات ہیں۔

شاہد حامد نے کہاکہ الزام ہے مریم کو دیے گئےتحائف کا ان کے شوہر کے ٹیکس گوشواروں میں ذکر نہیں،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ ضروری ہےاہلیہ کے تحائف کا شوہر گوشواروں میں ذکرکرے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہا کہ الزام ہے31ملین تحفوں کاٹیکس گوشواروں میں ذکر نہیں،جس پر شاہد حامد نے کہا کہ کیپٹن صفدر کا ٹیکس ان کی تنخواہ سے کاٹ لیا جاتا تھا۔

مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ جماعت اسلامی اور طارق اسد کی درخواستیں علیحدہ ہو چکیں ہیں،عمران خان کی درخواست میں مریم صفدر پر ٹیکس کی عدم ادائیگی اور زیر کفالت کا الزام ہے۔

شاہد حامد نےکہاکہ زیر کفالت پر مریم کا بیان پڑھ چکا ہوں،جبکہ ٹیکسوں کے حوالے سے دستاویزات جمع کروا دوں گا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ آپ اپنی موکلہ کی جانب سے ان کے والد کی مدد کے لیے تو دلائل دیں گے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ جی میری موکلہ والد کی مدد کریں گی۔

انہوں نےکہا کہ مریم نواز کے 12-2011کے ٹیکس ریٹرن عدالت میں پیش کر دیے گئے،مریم پر ایک الزام والد کے زیر کفالت ہونےکا ہے۔یہ الزام بھی لگا کیپٹن صفدر نے مریم کے تحائف کا گوشواروں میں ذکر نہیں کیا۔

شاہد حامد نےکہا کہ کیپٹن صفدر نے مریم کے گوشوارے بھی ساتھ ہی جمع کرائے تھے،جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نےکہا کہ الزام ہے ٹیکس گوشواروں میں مریم کے اثاثے ظاہر نہیں کیے گئے۔

جسٹس عظمت سعید نےکہا کہ کیا قانونی طور پر اہلیہ کے اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہے؟جس پر شاہد حامد نےکہا کہ قانونی طور پر لازمی نہیں کیونکہ مریم خود بھی ٹیکس دیتی ہیں۔

مریم نواز کے وکیل نےکہا کہ ٹیکس گوشوارے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائے گئے تھے،انہوں نےکہا کہ کیپٹن صفدر1986 سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، این ٹی این 2013 میں بنا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےاستفسار کیا کہ کیپٹن صفدر نے گوشوارے کب جمع کرانا شروع کیے، جسٹس آصف کھوسہ نےکہا کہ درخواست گزاروں نے کاغذات نامزدگی کا الزام ہی نہیں لگایا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاآپ پر الزام ٹیکس گوشواروں میں اثاثےظاہر نہ کرنے کا ہے،جس پر شاہد حامد نےکہا کہ مریم نواز عام شہری ہیں ان کے خلاف 184/3کے تحت سماعت نہیں ہو سکتی۔

شاہد حامد نےکہا کہ 184/3عام شہری کے حق میں اور حکومت کے خلاف عدالت کو اختیار سماعت دیتا ہے،انہوں نےکہا کہ تحفہ 2011 میں ملا،اس وقت کیپٹن صفدر کے پاس این ٹی این نہیں تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ نعیم بخاری نے کہا تھا کیپٹن صفدر ٹیکس ادا نہیں کرتے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ نعیم بخاری نے کہا کیپٹن صفدر کی کوئی آمدن نہیں۔انہوں نےکہا کہ آمدن نہ ہونے کے باعث کہاگیامریم والد کے زیر کفالت ہیں۔

شاہد حامد نےکہا کہ ایم این اے بننے کے بعد کیپٹن صفدر کے گوشوارے جمع کرواچکاہوں،انہوں نےکہا کہ کیا الیکشن کمیشن سےریفرنس اٹھا کر 184/3 عدالت میں لایاجاسکتا ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نےکہا کہ نوازشریف پر بعض الزمات مریم صفدر کے حوالے سے ہیں،مریم نواز کے وکیل نےکہا کہ مریم نواز کے خلاف درخواست گزاروں نے کوئی استدعا نہیں کی۔

شاہد حامد نےکہا کہ شیخ رشید نے مریم،کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کو فریق نہیں بنایا،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ یعنی آپ صرف کیپٹن صفدر کے ٹیکس معاملے پر دلائل دے رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہا کہ زیر کفالت ہونے کے معاملے پر بھی دلائل دینا ہوں گے،مریم نواز کےوکیل کے دلائل کے بعد سپریم کورٹ میں پاناماکیس کی سماعت کل تک کےلیےملتوی کردی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top