The news is by your side.

Advertisement

گرفتاری دینے تک پرویزمشرف اپیل دائر نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی خصوصی عدالت کے خلاف اپیل اعتراضات عائد کرتےہوئے واپس کردی اور کہا گرفتاری دینے تک پرویزمشرف اپیل دائر نہیں کرسکتے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نےپرویزمشرف کی خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل اعتراضات عائد کرتے ہوئے واپس کردی رجسٹرار آفس کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے تاحال خود کو قانون کے حوالے نہیں کیا، گرفتاری دینے تک پرویزمشرف اپیل دائر نہیں کرسکتے۔

رجسٹرار آفس کا مزید کہنا ہے سپریم کورٹ پہلے گرفتاری پھر اپیل کا اصول وضع کر چکی ہے، اعتراضات کے خلاف ایک ماہ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔

یاد رہے سابق صدر پرویزمشرف نے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، درخواست میں پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا خصوصی عدالت نے ٹرائل مکمل کرنے میں آئین کی 6 بارخلاف ورزی کی، شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، خصوصی عدالت کی تشکیل غیرآئینی تھی۔

مزید پڑھیں : پرویزمشرف نے خصوصی عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ مقدمہ کی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی اور خصوصی عدالت نے بیان ریکارڈ کرانے کا موقع نہیں دیا، انصاف کا قتل نہ ہو اسی لیے مقررہ قانونی مدت میں درخواست دائر کی۔

درخواست میں کہا گیا تھا خصوصی عدالت کے 17 دسمبر کے فیصلے سے غیرمطمئن ہوں، خصوصی عدالت میں جو پراسیکیوشن ہوئی وہ سلیکٹیو تھی، ایمرجنسی کی اعانت اورسہولت کاروں کوٹرائل کاحصہ نہیں بنایا گیا، سہولت کاروں کوحصہ بنانے کی درخواست کونظر انداز کرکے ٹرائل مکمل کیا گیا اور پرویز مشرف کے خلاف مبینہ آئینی جرم کا ٹرائل غیرقانونی طریقے سے چلایا گیا۔

درخواست میں کہا گیا تھا خصوصی عدالت کی تشکیل اور ججوں کی تعیناتی قانون کے مطابق نہیں ، حکومت نےکسی مرحلے پربھی کابینہ کی منظوری نہیں لی، اور پراسیکیوٹر نے قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر ہی کیس دائر کیا ، خصوصی عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست کے مطابق پرویز مشرف جیل توڑ کر نہیں بھاگے تھے، خصوصی عدالت نے بھی ان کی علالت کو تسلیم کیا، تاہم عدالت نےپرویز مشرف کوغیر حاضری میں سزا سنائی، پرویز مشرف کی اپیل ان کی غیر حاضری میں پذیرائی کےقابل ہے، بینظیر بھٹو کی اپیل کوبھی سپریم کورٹ نےغیر حاضری میں پذیرائی دی۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا تھا کہ سزا نے سابق صدر، سابق آرمی چیف اور پوری قوم کے لیے برا تاثر دیا، پرویز مشرف مفرورنہیں لیکن سنجیدہ بیماریوں میں مبتلا ہیں، پراسیکیوشن غداری کا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہی، پرویزمشرف علالت کے باعث سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوسکتے، وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں، پاکستان سفرنہیں کرسکتے۔

خیال رہے کہ 17 دسمبر کو خصوصی عدالت نے آئین شکنی کیس میں محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر و سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا، عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں