The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت2ہفتے میں غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے سے متعلق جامع پلان دے، سپریم کورٹ

شہر کو تباہ کردیاکوئی پوچھنےوالانہیں، عدالت کے ریمارکس

کراچی : سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سےغیر قانونی تعمیرات کےخاتمےسےمتعلق دو ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی اور کہا ہمیں لوریاں نہ سنائیں، شہر کو تباہ کردیاکوئی پوچھنےوالانہیں،کراچی کی صورتحال پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ،لائنزایریا گرا کرملٹی اسٹوریزبلڈنگز بنائیں اور لوگوں کو آباد کریں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزاراحمداورجسٹس سجادعلی شاہ پرمشتمل بینچ نے شہر میں بڑےپیمانےپرغیر قانونی تجاوزارت سےمتعلق کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی رپورٹ مستردکردی اور سپریم کورٹ رجسٹری کراچی کاانفرااسٹرکچر تباہ کرنے پر برہمی کا اظہار کر تے ہوئے شہرکی تباہی پر سندھ حکومت کوفوری کابینہ کااجلاس بلانے کا حکم دے دیا۔

شہرکی تباہی پرسندھ حکومت کوفوری کابینہ کااجلاس بلانے کا حکم

جسٹس گلزار نے اےجی سندھ سے مکالمے میں کہا ہمیں لوریاں نہ سنائیں،آپ کی لوریوں میں آنےوالےنہیں، اے جی صاحب ہمیں لوریوں سے سولانےکی کوشش مت کریں، آپ کٹھ پتلیاں ہیں کسی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، کراچی کی صورتحال پرکسی قسم کاکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہمیں1950کے بعد والا اصل ماسٹر پلان لاکر دیں۔

ہمیں لوریاں نہ سنائیں،آپ کی لوریوں میں آنےوالےنہیں،کراچی کی صورتحال پرکسی قسم کاکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، جسٹس گلزار

جسٹس گلزار احمد کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ شہرکی کم ازکم500عمارتیں گراناہوں گی، شہرکی تباہی میں سب اداروں کی ملی بھگت شامل ہے اور حکم دیا سندھ حکومت شہرکی تباہی پرماہرین سےمشاورت کرے، بتایاجائے بے ہنگم اور غیر قانونی عمارتوں کوکیسےگرایاجاسکتاہے۔

شہرکی کم ازکم500عمارتیں گراناہوں گی، عدالت کے ریمارکس 

جسٹس گلزار احمد نے حکم دیا کہ سندھ حکومت غیرقانونی تعمیرات کےخاتمےسےمتعلق2ہفتےمیں رپورٹ پش کرے ، کراچی کی ایک انچ زمین پربھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، غیرقانونی تعمیرات کےپیچھےکوئی بھی ہوآپ کوسب گراناہوگا، بیرون ملک سےٹاؤن پلانرزکوبلائیں،کراچی کواصل شکل میں بحال کریں، شہرایسےہوتےہیں،جائیں انگریزوں سےہی پوچھ لیں ، لندن کےپاکستانی نژادمیئرصادق احمدسےپوچھیں شہرکیسے بسائے جاتےہیں۔

غیرقانونی تعمیرات کےپیچھےکوئی بھی ہوآپ کوسب گراناہوگا، لندن کےپاکستانی نژادمیئرصادق احمدسےپوچھیں شہرکیسے ، ، بسائے جاتےہیں، جسٹس گلزار

سماعت کے دوران جسٹس گلزاراحمد نے مزید کہا لائنزایریاگراکرملٹی اسٹوریزبلڈنگزبنائیں اورلوگوں کوآبادکریں، شہرکو تباہ کردیا ہےکوئی پوچھنےوالا نہیں، ٹیپوسلطان روڈ، شہید ملت روڈ، کشمیرروڈ پر تباہی پھیر دی، شارع فیصل پردونوں اطراف خوبصورت بنگلےتھےاب عمارتوں کاجنگل ہے، بجلی کےتاروں کے بعد کیبلز نے خوبصورتی بگاڑ دی، یہ کراچی پرکلنک ہے۔

جسٹس گلزاراحمد نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا آپ پیسہ بنانےمیں لگےرہیں،یہ کلنک لگتارہےآپ کو فرق نہیں پڑتا،ر ہرکوئی برطانیہ،امریکااورکینیڈامیں جائیدادبناناچاہتاہے، سندھ حکومت2ہفتےمیں جامع پلان دے۔

لائنزایریا گرا کرملٹی اسٹوریزبلڈنگز بنائیں اور لوگوں کو آباد کریں

جسٹس گلزاراحمد کا کہنا تھا کہ سب پیسہ بنانےمیں لگےہوئےہیں ، ملیرندی پرقائم ہرقسم کی عمارتیں گراناہوں گی، لائنزایریاگرائیں، کثیرالمنزلہ عمارتیں بناکر لوگوں کو بہتر سہولتیں دیں۔

جام صادق پارک سے تجاوزات ختم نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اورسندھ حکومت کی رپورٹ مستردکردی، اےجی نے بتایا کہ جام صادق نےصرف پارک کا اعلان کیا تھا زمین الاٹ نہیں ہوئی تھی، جس پرجسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیا کیاوزیراعلیٰ کےاعلان کی کوئی اہمیت نہیں؟ بلائیں اپنے سی ایم کو ان سے پوچھتےہیں کیاچیف منسٹری کررہے ہیں۔

ڈائریکٹراینٹی انکروچمنٹ کےڈی اے جمیل بلوچ نے کہا یہ ملیرندی کی زمین ہے جو کورنگی انڈسٹریل ایریاکودے دی گئی تھی ، اب زمین پر سپراسٹور اور دیگر عمارتیں بن گئی ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے یہاں متوازی قانون چل رہاہے؟لوگوں کوبےوقوف نہ بنائیں اے جی صاحب۔

عدالت نے ملیر ندی کی زمین واگزار کرانے کابھی حکم دیتے ہوئے کہا عوام کےحقوق پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، غیرقانونی عمارتیں گرادیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے اعتراف کیا ماضی میں کوتاہیاں ہوئی ہیں، جس پر جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ کوتاہیوں کانتیجہ سب بھگت رہےہیں،سمجھ لیں سب ٹھیک کرناہوگا، یونیورسٹی کےاطراف غیرقانونی شادی ہالز،بلندعمارتیں بنا دی گئیں ، اس زمین پرمیرج ہال بھی غیرقانونی بنایاگیاہے، جوبھی غیرقانونی عمارت ہےوہ گرےگی، پاکستان کی کوئی طاقت غیرقانونی عمارت گرانےسےنہیں روک سکتی۔

جوبھی غیرقانونی عمارت ہےوہ گرےگی، پاکستان کی کوئی طاقت غیرقانونی عمارت گرانےسےنہیں روک سکتی، جسٹس گلزار

غیرقانونی تجاوزات کیس میں عدالت نےچیئرمین پی آئی اےکونوٹس جاری کردیا، جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے سناہے پی آئی اے ہیڈآفس کراچی سے اسلام آبادجارہاہے، ہیڈ آفس اسلام آباد گیا تو جگہ کو کیسے استعمال کریں گے۔

پی آئی اے کی اراضی پر کیاہورہا ہے چیئرمین رپورٹ دیں، جسٹس گلزار

جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیا بتائیں پرانےایئرپورٹ کی زمین کاکیااستعمال ہے، معلوم ہے دنیا بھر سے آنے والے اسلام آبادکیوں اترتے ہیں، جس پر اےجی سندھ نے بتایا کہ ایئررپورٹس کےباعث پروازیں اسلام آبادمنتقل ہوگئیں ہیں، توجسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے یہ کہیں آپ نےکراچی میں ایساکیاکیاجولوگ یہاں آئیں، جوحال شہرکاکیاہےلوگ یہاں کیسےآئیں، پی آئی اے کی اراضی پر کیاہورہا ہے چیئرمین رپورٹ دیں۔

دوسری جانب امن وامان کی صورتحال اورپولیس کی کارکردگی پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہارکیا ، جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمے میں کہا پولیس کارویہ اورکارکردگی شرمناک ہے، ختم کردیں ایسی پولیس ان سےکہیں چلےجائیں، کوئی دوسری فورس لائیں۔

یہلوگ کسی وجہ کےبغیرچلتےآدمی کوماردیتےہیں، انہوں نے 5سال کی بچی کوبھی نہیں چھوڑاکیاوہ دہشت گردی تھی؟ عوام ، کےٹیکسوں پرپلتے ہیں مگرعوام کیلئےکچھ نہیں کرتے، جسٹس گلزار 

جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس میں مزید کہا یہ لوگ کسی وجہ کےبغیرچلتےآدمی کوماردیتےہیں، فیملی گاڑی میں سفرکررہی ہےاسے بھی مار دیتے ہیں، انہوں نے 5سال کی بچی کوبھی نہیں چھوڑاکیاوہ دہشت گردی تھی؟ عوام کےٹیکسوں پرپلتے ہیں مگرعوام کیلئےکچھ نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں : کراچی میں ہرقسم کی غیرقانونی تجاوزات فوری گرادی جائیں، سپریم کورٹ کا بڑاحکم

یاد رہے 22جنوری کو سپریم کورٹ نے بڑا حکم دیتے ہوئے کہا تھا غیرقانونی شادی ہال ہو یاشاپنگ مال اورپلازہ، کراچی میں ہرقسم کی غیرقانونی تجاوزات فوری گرادی جائیں اور حکام کو کہا بندوق اٹھائیں، کچھ بھی کریں، عدالتی فیصلے پر ہر حال میں عمل کریں، کراچی کوچالیس سال پہلے والی پوزیشن میں بحال کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں