اسلام آباد : سپریم کورٹ نے حق مہر میں دی گئی جائیداد کی منتقلی سے متعلق اہم قانونی اصول طے کر دیے اور نکاح نامہ میں تبدیلی کا حکم دیتے ہوئے کہا جائیداد کی ملکیت کا الگ کالم شامل کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے حق مہر میں دی جانے والی جائیداد کی منتقلی کے حوالے سے ایک بڑا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی شخص مشترکہ جائیداد میں اپنے قانونی حصے سے زیادہ جائیداد حق مہر میں دینے کا مجاز نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے حق مہر میں دی گئی جائیداد کی منتقلی سے متعلق اہم قانونی اصول طے کردیئے ، جس میں کہا کہ مشترکہ جائیداد کا کوئی بھی حصہ دار اپنے موروثی حصے سے زائد جائیداد منتقل نہیں کر سکتا۔ شوہر صرف اسی حد تک حق مہر دے سکتا ہے جتنا اس کا اپنا حصہ بنتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی شوہر پورے گھر کو حق مہر میں دینے کا دعویٰ کرتا ہے، تو یہ عمل دیگر قانونی ورثا کے حقوق پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
عدالت نے نکاح نامہ میں تبدیلی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں اور مقدمہ بازی سے بچنے کے لیے نکاح نامہ میں جائیداد کی ملکیت کا الگ کالم شامل کیا جائے۔
عدالت نے نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ حق مہر میں درج کی جانے والی جائیداد کی ملکیت کی پہلے مکمل تصدیق کی جائے۔
جسٹس شکیل احمد کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ اس فیصلے کی کاپی تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو بھجوائی جائے تاکہ وہ اس پر ضروری کارروائی اور عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
سپریم کورٹ نے یہ اصول طے کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی سول پٹیشن کو خارج کر دیا اور واضح کیا کہ قانون کسی کو بھی دوسروں کی ملکیت غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں


