جھوٹی گواہی دینے والا کانسٹیبل عدالت میں طلب -
The news is by your side.

Advertisement

جھوٹی گواہی دینے والا کانسٹیبل عدالت میں طلب

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جھوٹی گواہی دینے والے کانسٹیبل کو عدالت میں طلب کرلیا۔ اس سے پہلے بھی ایک شہری کو جھوٹی گواہی دینے پر عدالت میں طلب کیا جاچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قتل کے مقدمے میں جھوٹی گواہی کا نوٹس لیتے ہوئے جھوٹی گواہی دینے والے کانسٹیبل خضر حیات کو طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو حکم دیا ہے کہ خضر حیات کو 4 مارچ کو پیش کیا جائے۔ جھوٹی گواہی کا نوٹس قتل کے ملزم محمد الیاس کی سزا کے خلاف اپیل پر لیا گیا۔ ملزم محمد الیاس عدم شواہد کی بنیاد پر کیس سے بری ہوگیا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیس کو جھوٹی گواہی دے کر خراب کر دیا گیا، جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس نے جھوٹی گواہی کے خلاف پہلی کارروائی چند روز قبل کی تھی جب انہوں نے جھوٹی گواہی دینے پر ساہیوال کے رہائشی ارشد کو 22 فروری کو طلب کیا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رات کو 3 بجے کا واقعہ ہے کسی نے لائٹ نہیں دیکھی، ٹرائل کورٹ کی ہمت ہے انہوں نے سزائے موت دی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہائیکورٹ نے بھی عمر قید کی سزا سنائی حالانکہ تمام گواہان کہہ رہے تھے کہ انہوں نے فائر ہوتے نہیں دیکھا، ’یہ سب کچھ نچلی عدالتوں کو کیوں نظر نہیں آتا‘۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ جس طرح رضا کارانہ گواہ بنا، اسی طرح رضا کارانہ جیل بھی جانا چاہیئے، ٹرائل کورٹ نے جھوٹی گواہی پر سزائے موت دی اور ہائیکورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں