نئےگج ڈیم کی تعمیر کیس ، چیف جسٹس نے وزیرخزانہ اور وزیرتوانائی کوطلب کرلیا
The news is by your side.

Advertisement

نئےگج ڈیم کی تعمیر کیس ، چیف جسٹس نے وزیرخزانہ اور وزیرتوانائی کوطلب کرلیا

میری خواہش تھی یہ معاملہ میری موجودگی میں حل ہوجاتا، چیف جسٹس

اسلام آباد : چیف جسٹس نے حکومت سےنئےگج ڈیم کی تعمیر کاشیڈول مانگتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر  اور  وزیر توانائی عمر ایوب  کو طلب کرلیا جبکہ  ریمارکس دیئے میری خواہش تھی یہ معاملہ میری موجودگی میں حل ہوجاتا، بہت ساری خواہشات صرف خواہشات ہی رہ جاتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں نئےگج ڈیم کی تعمیر کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں چیف جسٹس کی کہا حکومت نئےگج ڈیم کی تعمیر سے متعلق مکمل شیڈول دے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پرکمیٹی میٹنگ ہوچکی ہے۔

سیکرٹری پلاننگ کمیشن نے عدالت کو بتایا کمیٹی نےاپنی سفارشات ایکنک کوبھجوادی ہیں، سیکریٹری خزانہ کوایکنک اجلاس جلدطلب کرنےکابھی کہا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ معاملہ توپھرایکنک میں پھنس جائےگا، ڈیم سےمتعلق بہت سی چیزیں فائنل ہوچکی ہیں۔

میری خواہش تھی یہ معاملہ میری موجودگی میں حل ہوجاتا، بہت ساری خواہشات صرف خواہشات ہی رہ جاتی ہیں

چیف جسٹس

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ میری خواہش تھی یہ معاملہ میری موجودگی میں حل ہوجاتا، بہت ساری خواہشات صرف خواہشات ہی رہ جاتی ہیں، معاون نے کہا متعلقہ وزرا نے یقین دہانی کرائی کہ معاملہ انسانی حقوق کے طور پر سنیں گے۔

سیکریٹری پلاننگ نے کہا کوشش کریں گے، 17 جنوری سے پہلے ایکنک کی میٹنگ ہو، جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے عدالت میں وزیرخزانہ کوبلالیتےہیں۔

عدالت نےو زیر خزانہ اسد عمر اور اور وزیر توانائی عمر ایوب کو طلب کرتے ہوئے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو بھی طلب کرلیا اور کمیٹی کارروائی کا ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دیا، چیف جسٹس نے کہا حکومت تاریخ بتائے کب تک یہ ساراعمل مکمل ہوگا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔

مزید پڑھیں : چیف جسٹس کا مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد کی تاریخ بدلنے پر حکومت سے شکوہ

یاد رہے گذشتہ سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے مہمندڈیم کےسنگ بنیادکی تاریخ بدلنے پر حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا  مجھ سےاجازت لیےبغیرسنگ بنیادکی تاریخ بدل دی گئی، شایدسنگ بنیادتقریب میں نہ جاؤں،وزیراعظم کولےجائیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے  تھے فیصل واوڈاصاحب ایکنک کی میٹنگ انشور کریں، چیف جسٹس نے کہا میٹنگ نہ ہوئی تواگلی سماعت پرشارٹ نوٹس پر بلالیں گے، اگلی سماعت پر چاروں منسڑز آکر بتائیں کہ نئی گج ڈیم پر کیا کرنا ہے، ہم نےیہ کیس اس وقت اٹھایاشایدجب نااہل لوگ تھے، اب قابل اوراہل لوگ حکومت میں آگئےہیں یہ خودکرلیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں