The news is by your side.

زینب قتل کیس: سپریم کورٹ نے آج سینئرصحافیوں کو طلب کرلیا

لاہور: زینب قتل کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینئر صحافیوں، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) ممبران کوطلبی کے نوٹسز جاری کردیئے۔

تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس میں سپریم کورٹ نے سینئر اینکر پرسنز کو نوٹس جاری کردیا، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں آج زینب قتل کیس کی سماعت ہوگی۔

سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس میں اے آر وائی نیوز کےسینئراینکرز کاشف عباسی، جیو کے حامد میر، دنیا کے کامران خان، حمید ہارون، میرشکیل، رمیزہ، فہد حسین، آئی اے رحمان، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے میاں عامر محمود، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے سرمد علی اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے ضیا شاہد کو پیش ہونے کے لیے نوٹس کل جاری کیےتھے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ شاہد مسعود کی خبر کا نوٹس لیا تھا، مظہر عباس صاحب آپ بتائیں اورکس کس کو نوٹس جاری کریں؟ انصاف کرنا صرف عدلیہ کا نہیں صحافیوں کا بھی کام ہے، اب ذمہ داری میڈیا پر بھی عائد ہوگی۔

صحافی مظہر عباس نے کہا کہ صحافی شاہد مسعود کا معاملہ انفرادی ہے، بدقسمتی سے صحافتی قوانین پر عمل نہیں ہو رہا، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) اور دیگر صحافی تنظیموں کو بھی سنا جائے، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہماری مدد کریں لاہور میں سب کو سنیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل کے اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کا دعویٰ جھوٹا نکل آیا تھا، زینب قتل کے مرکزی ملزم عمران علی کے بینک اکاؤنٹس کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔

اس سے قبل کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ زینب کے ساتھ قتل اور زیادتی میں پورا گینگ ملوث ہے جس میں چند سیاستدانوں کے نام بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: زینب قتل کیس میں ملوث وزیر کا نام سپریم کورٹ کو دے دیا: شاہد مسعود

ان کے اس پروگرام کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں عدالت میں پیش ہونے اور ثبوت و شواہد پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت میں شاہد مسعود کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ملزم عمران ذہنی مریض ہے نہ نفسیاتی مریض، اور نہ پاگل ہے۔ پاکستان میں زیادتی میں گینگ ملوث ہے جس میں سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں، عدالت کی ہدایت پر شاہد مسعود نے ملوث افراد کے نام لکھوا دیے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم عمران کے 37 فارن کرنسی اکاؤنٹس ہیں، ان اکاؤنٹس میں ڈالر اور یورو میں ٹرانزکشن ہوتی ہے، یہ اکاؤنٹس ملزم عمران خود استعمال کرتا ہے۔

شاہد مسعود کے مطابق گھناؤنے فعل میں ملوث گینگ پہلے پاکستان سے تصاویر سائٹ مینیجر کو بھجواتا ہے، تصویر کی منظوری کے بعد بچی کو اغواء کیا جاتا ہے اور اس پر جنسی تشدد کر کے قتل کردیا جاتا ہے، ان کے مطابق یہ مناظر انٹرنیٹ پر بھی دکھائے جاتے ہیں۔

عدالت میں شاہد مسعود نے کہا تھا کہ ملزم کو پولیس کے بجائے حساس ادارے کی تحویل میں دیا جائے، جبکہ انہوں نے امکان ظاہر کیا تھا کہ پس پردہ متحرک اصل شخصیات کو چھپانے کے لیے ملزم کو دوران حراست قتل بھی کیا جاسکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں