The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا نہال ہاشمی پر 26 مارچ کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد :توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کا تحریری جواب مسترد کرتے ہوئے 26 مارچ کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نہال ہاشمی توہین عدالت کیس کی سماعت کی، نہال ہاشمی عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت نہال ہاشمی نے اپنا جواب جمع کروایا اور کہا کہ ہفتے کو میں نے عدالتی حکم نامے کی نقل وصول کی اور جواب داخل کردیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اپنا جواب پڑھیں، جس پر نہال ہاشمی نے اپنے جواب پڑھ کر سنایا اور کہا کہ میں نے کسی جج صاحب کا نام نہیں لیا،شفاف ٹرائل میرا حق ہے، مظلوم قیدیوں کی آواز اٹھائی، کیامظلوموں کی آوازاٹھاناگناہ ہے؟

نہال ہاشمی نے مزید کہا کہ 38سال میری زندگی میں کوئی مس ہیپ نہیں ہوا، میں حسینی ہوں بدتمیزی نہیں کرسکتا، عدالت کے لیے جان بھی حاضر ہے، ہر آدمی سے غلطی ہوجاتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے سوال کیا کہ کیامجھے سیاسی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے؟ جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی تضحیک کی۔

نہال ہاشمی نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کے لیے جیل گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہکب تک ہم یہ احسان اٹھاتےرہیں گے، آپ نے بےغیرت کالفظ استعمال کیا، جس پر نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ میں نےوہ لفظ آپ کے لیے استعمال نہیں کیا، مائی لارڈ آپ نے اسکرٹ والی بات کی اور ندامت کی ، میرے لیے معافی کیوں نہیں؟


مزید پڑھیں : نہال ہاشمی کو ایک بارپھرتوہین عدالت کا نوٹس جاری


جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسکرٹ والی بات توہین عدالت نہیں تھا، آپ کا جواب آگیا ہے، ہمیں کارروائی آگے بڑھانی ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ نہال ہاشمی کے تحریری جواب سے مطمئن نہیں ہیں، مثالی فیصلے دیں گے۔

سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو نہال ہاشمی پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

گذشتہ سماعت میں نہال ہاشمی کی رہائی کے بعد توہین آمیز گفتگو دوبارہ عدالت میں دکھائی گئی، جس کے بعد نہال ہاشمی نے توہین آمیز الفاظ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ توہین آمیز الفاظ میرے نہیں ہیں، میں ایکٹنگ کر رہا تھا۔

سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 12 مارچ تک جواب داخل کروانے کا حکم دیا تھا۔


مزید پڑھیں : نہال ہاشمی باز نہ آئے، جیل سے رہائی کے بعد پھر سخت بیان


واضح رہے کہ گزشتہ برس کراچی میں ایک تقریر کے دوران نہال ہاشمی نے پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ حساب لینے والوں، سن لو تم کل ریٹائر ہوجاؤ گے، ہم تمہارے خاندان کے لیے زمین تنگ کردیں گے۔

نہال ہاشمی کی توہین آمیز تقریر کے بعد انہیں توہین عدالت کے جرم میں ایک ماہ کی سزا سنادی گئی تھی تاہم رہائی کے بعد انہوں نے ایک بار پھر سخت زبان استعمال کرتے ہوئے عدلیہ مخالف الفاظ کہے تھے، جس کا چیف جسٹس نے دوبارہ نوٹس لے لیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں