The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے نیب کی حدیبیہ پیپرزملز کی نظرثانی درخواست خارج کردی

اسلام آباد : سپریم کورٹ نےنیب کی حدیبیہ پیپرز ملز کی نظرثانی درخواست خارج کردی، جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا الزام انیس سوبانوے کا ہے درخواست سیاسی ہتھیار کےطور پر دائر کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل 3 رکنی خصوصی بینچ نے حدیبیہ پیپرز ملز نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔

جسٹس مشیر عالم نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں غلطیوں کی نشاندہی کریں جس میں کیس دوبارہ کھولنے کی اپیل مسترد کردی گئی تھی۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا عدالت نےاس بات پرغورنہیں کیاکہ فردجرم عائدنہیں ہوئی، جس پر کیا یہ آپ کی مرضی ہے کہ سالوں فردجرم عائد ہی نہ ہو، الزام 1992 کا ہے، الزام درخواست آپ نے سیاسی ہتھیار کے طور پر دائر کی۔

نیب پراسیکیوٹر سپریم کورٹ کے فیصلے میں غلطی بتانے میں ناکام رہا، جس کے بعد سپریم کورٹ نے نیب کی نظرثانی درخواست خارج کردی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ہمارے فیصلے میں کوئی غلطی ہوتی تو پہلا شخص ہوں گا، جو درستگی کرے گا، نیب نے 1229 دن بعد اپیل دائر کی، زائد المیعاد ہونے پر اپیل خارج کی گئی، نیب والے عدالت سے باہر جاکر تقرریں کرتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی اس بات کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب کا کوئی افسر تقریر نہیں کرتا، جس پر جسٹس قاضی فائز نے ریمارکس دیئے کہ نیب کے بعد کوئی وزیر آکر تقریریں شروع کر دیتا ہے۔

دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ کیا نیب کے کہنے پر کوئی کرپٹ اور بے ایمان ہو جائیگا؟، پہلے ثابت تو کریں کہ کوئی جرم ہوا ہے، آپ کے کیس کا پورا زور اسحاق ڈار کا بیان ہے، بیان بھی مان لیں تو کیا ہوگا، بیان کے تناظر میں نیب نے چیزوں کو ثابت کرنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا مزید کہنا تھا دفعہ 164 کا بیان ضابطہ فوجداری کیساتھ کھیل ہے، خدا کا واسطہ ہے ضابطہ فوجداری کیساتھ کھیل نہ کھیلیں، اسحاق ڈار کا بیان کسی اور کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا۔

مزید پڑھیں : نیب کی حدیبیہ پیپرملزریفرنس پھر کھولنے کیلئےنظرثانی کی اپیل سپریم کورٹ میں دائر

جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ ریفرنس نیب کی درخواست پر تاحکم ثانی ملتوی ہوا، 2008 میں ریفرنس بحال کروایا، پھر دوسری بار ریفرنس سرد خانے کی نذر کروایا، ایک بندے کو کب تک ایسے گھسیٹیں گے، اٹھارہ سال سے سر پر تلوار لٹک رہی ہے۔

یاد رہے نیب نے سپریم کورٹ میں حدیبیہ پیپرملز میں نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی ، جس میں عدالت عظمیٰ سے پندرہ دسمبرکےحکم پرنظرثانی کی استدعا کی گئی تھی۔

اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب کو حدیبیہ پیپرملزکیس دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی تھی اور نیب کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت نیب کےدلائل سےمطمئن نہیں ہوئی، درخواست مسترد کرنے کی وجہ تحریری فیصلےمیں بتائی جائے گی۔

واضح رہے کہ پانامہ کیس کے دوران عدالت کے سامنے نیب نے اس کیس میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تھا، اس کیس میں پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کا نام شامل ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے نیب کا ریفرنس خارج کرتے ہوئے نیب کو حدیبیہ پیپرز ملز کی دوبارہ تحقیقات سے روک دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں