The news is by your side.

Advertisement

افتخارچوہدری بدسلوکی کیس، سپریم کورٹ نے ملزمان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائیں بحال کردیں

اسلام آباد : افتخار چوہدری بد سلوکی کیس میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کی اپیلیں مسترد کردی اور سزائیں بحال کردیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے افتخار چوہدری بدسلوکی کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے سابق آئی جی اسلام آباد اور دیگرسات پولیس افسران کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کردیا۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد پولیس نے تمام ملزمان کو حراست میں لے لیا، جن میں ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی، ڈی ایس پی رخسار مہدی اور ایس ایس پی کیپٹن (ر) ظفر شامل ہیں۔

سابق آئی جی، چیف کمشنر اسلام آباد سمیت 4افسران کو تابرخاست عدالت سزا دی گئی جبکہ تین افسران کو پندرہ دن کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے کچھ روز قبل ملزمان کی انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

واضح رہے کہ دو ہزار سات میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو گھر سے عدالت جاتے ہوئے روکا گیا تھا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں