The news is by your side.

Advertisement

جن بھوت‘ آوازیں‘ یہ سب کیا ہے؟

سائنس دانوں نے شیزوفرینیا کے مریضوں کے دماغ میں وہ حصہ دریافت کرلیا جس میں تحریک سے مریض غیر مرئی تصور کی جانے والی ’آوازیں‘ سنتے ہیں۔

پیرس میں ہونے والی ایک سائنٹیفک کانفرنس میں ایک تجربے کے نتیجے میں سائنس داں بالاخر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ شیزو فرینیا نامی مرض ہی درحقیقت انسانوں کو غیر مرئی آوازیں سنانے کا سبب بنتا ہے جنہیں اکثر اوقات لوگ الہامی آوازیں بھی سمجھ بیٹھتے ہیں۔

شیزوفرینیا کے مریض اکثر غیرمرئی لوگوں کی آوازیں سنتے ہیں جو اور کسی کو نہیں آتیں یا انہیں جن بھوت نظر آتے ہیں جو کسی اور کو نظر نہیں آتے ۔ نئی تحقیق سے سائنسدانوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ آوازیں یا بصری دھوکے ان کے اپنے دماغ کی پیداوار ہوتے ہیں ۔

تمباکو نوشی آپ کودیوانہ بنا سکتی ہے: تحقیق

سائنس دانوں نے نہ صرف دماغ کے اس حصے کو دریافت کر لیا ہے جس میں غیر معمولی سرگرمی سے مریض یہ آوازیں سنتے ہیں بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ اگر اس حصے کو مقناطیسی مشین سے متحرک کیا جائے تو بھی یہ مریض آوازیں سننے لگتے ہیں۔

تجربے کے طور پر شیزوفرینیا کے کچھ مریضوں کے دماغ سے مقررہ مقدار میں مخصوص مقناطیسی لہریں گزاری گئیں جس کے نتیجے میں وہ ان غیر مرئی آوازوں کو سننے لگے جنہیں وہ غیر مرئی سمجھتے تھے۔

یونی ورسٹی آف کائن ‘ فرانس سے تعلق رکھنے والی پروفیسر سونیا ڈولفز ‘ جو کہ اس تحقیق کی انچارج ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کامیاب تجربہ ہے جس میں دماغ کے وہ حصے جو از خود اس قسم کی چیزیں یا آوازیں بناتے ہیں انہیں ایک کنٹرولڈ تجربے کے ذریعے پیدا میں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ شیزو فرینیا ایک طویل المدت ذہنی بیماری ہے جس کا شکار مریضوں کو مختلف اقسام کی علامتوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جن میں سب سے عام ایسی آوازیں سنائی دینا ہے جو کسی کو سنائی نہیں دیتی جبکہ ایک قابلِ ذکر تعداد غیر مرئی اشیا دیکھنے بھی لگتی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں