(7 اگست 2026): دنیا میں کروڑوں بچے اسکول جاتے ہیں لیکن اگر روز جان خطرے میں ڈال کر یہ راستہ طے کرنا ہو تو پھر یہ جان جوکھوں کا کام ہے۔
بھارت میں ایک ایسا بھی علاقہ ہے، جہاں بچے حصول تعلیم کے لیے جان خطرے میں ڈالتے ہوئے روز پُر خطر راستے سے گزرتے ہیں، جس کی وائرل ویڈیو نے دیکھنے والوں کے دل دہلا دیے ہیں۔
یہ ریاست مدھیہ پردیش کے ودیشا ضلع ہے، جہاں اسکول جانے والے طلبہ وطالبات کو روز دریائی بند سے چھلانگیں لگا کر اسکول جانا پڑتا ہے جب کہ نیچے تند وتیز پانی بہہ رہا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل اس خطرناک ویڈیو نے سوال اٹھا دیا ہے کہ اگر اس خطرناک راستے سے گزرتے ہوئے کسی بچے کا پیر پھسل جائے اور وہ نیچے پانی کے تیز بہاؤ میں جاگرے تو اس کی موت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
والدین اور مقامی افراد کے مطابق بچوں کے لیے اسکول تک پہنچنے کا محفوظ راستہ موجود نہیں ہے، جس کے باعث معصوم طلبہ کو روزانہ خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ خاص طور پر بارش کے موسم میں جب پانی کا بہاؤ تیز ہوجاتا ہے، اس مقام سے گزرنا مزید خطرناک بن جاتا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو کسی بڑے حادثے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر اس مقام کا معائنہ کرنا چاہیے اور بچوں کے لیے محفوظ آمدورفت کا مستقل انتظام کرنا چاہیے۔


