The news is by your side.

Advertisement

اسکول فیس : مجھے ٹیچرز کے سلوک پر رونا آتا تھا، متاثرہ طالبہ

کراچی : ساتویں جماعت کی طالبہ عبیر کو اسکول میں حبس بے جا میں رکھنے کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے طالبہ اور اس کے والد نے پورا واقعہ بیان کردیا۔

اے آر وائی نیوز اسٹوڈیو میں متاثرہ طالبہ عبیر زھرہ اور والد محمد عادل انصاری نے واقعے کی تفصیلات بیان کیں بچی نے بتایا کہ فیس جمع نہ کرانے پر 18مارچ کو مجھے سارا وقت کھڑا رکھا اور لنچ ٹائم میں کھانا بھی کھانے نہیں دیا۔

عبیر زھرہ نے بتایا کہ میرے پاپا جب پرنسپل سے بات کرنے گئے، اس موقع پر پاپا نے ان سے پوچھا کہ یہ کون سا قانون ہے کہ آپ بچی کا اسکول بیگ روک لیتے ہیں تو وہ غصے میں اٹھے اور بد تمیزی کرنا شروع کردی۔

عادل انصاری نے بتایا کہ اسکول پرنسپل نے مجھے یہ دھمکی بھی دی کہ ہم اس بچی کا نام پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے ذریعے تمام اسکولوں میں پھیلا دیں گے تاکہ اس کو کہیں بھی داخلہ نہ مل سکے۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ناظم آباد میں فیس نہ دینے پر ساتویں جماعت کی طالبہ سے اسکول انتظامیہ کی مبینہ بدسلوکی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، مقدمہ حبس بے جا اور دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔

اسٹوڈنٹس پیرینٹس ایسوسی ایشن نے بھی ایس ایس پی سے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے، ایف آئی آر میں بچی کے والد نے مؤقف اختیار کیا کہ میری بیٹی کی چند ماہ اسکول فیس باقی تھی، اسکول انتظامیہ سے ہر ماہ فیس کے ساتھ بقایا فیس لینے کی درخواست کی۔

مزید پڑھیں : فیس نہ دینے پر طالبہ سے اسکول انتظامیہ کی بدسلوکی کا مقدمہ درج

والد کی جانب سے درخواست میں کہا گیا اسکول گئے تو نہ صرف دھمکیاں دی بلکہ دونوں کو دھکے دے کر نکال دیا گیا، اسکول کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں