بدھ, اپریل 15, 2026
اشتہار

ویڈیو: ایران میں اسکول کو امریکی ٹوماہاک میزائل نے ہٹ کیا

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (09 مارچ 2026): ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں ایک امریکی کروز میزائل کو اُس کمپاؤنڈ پر حملہ کرتے دکھایا گیا ہے جہاں لڑکیوں کے ایک اسکول میں تقریباً 175 ایرانی طالبات اور عملے کے افراد شہید ہو گئے تھے۔

یہ 7 سیکنڈ پر مشتمل ویڈیو ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی نے جاری کی ہے، جس میں ایک میزائل کو ایک دیواروں سے گِھرے کمپاؤنڈ کے اندر موجود عمارت سے ٹکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو غالباً ایک ہیلتھ کلینک تھا اور اس جگہ کے احاطے میں واقع تھا جو کبھی پاسداران انقلاب کے بحری اڈے کا حصہ رہا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب لڑکیوں کے اسکول پر حملہ ہو چکا تھا، نئی ویڈیو میں کمپاؤنڈ کے اس حصے سے پہلے ہی دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے جہاں اسکول واقع تھا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ ایران میں اسکول پر امریکی میزائل گرا، جس کے نتیجے میں طالبات کی اموات ہوئیں۔ ماہرین نے بحری اڈے پر ٹوماہاک میزائل گرنے کی ویڈیو کا تجزیہ کیا۔ سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا پوسٹس اور دیگر ویڈیوز سمیت مختلف شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایلیمنٹری اسکول کو اسی وقت نقصان پہنچا، جس وقت پاسداران کے بحری اڈے کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسکول پر ایران نے خود حملہ کیا تھا۔

اگرچہ ویڈیو کے معیار کی وجہ سے استعمال ہونے والے ہتھیار کی درست شناخت مشکل ہے، تاہم جیفری لیوس، جو مڈلبری کالج میں عالمی سلامتی کے پروفیسر ہیں، کے مطابق یہ ٹوماہاک کروز میزائل سے مشابہت رکھتا ہے۔ ٹوماہاک میزائل رکھنے والا واحد ملک امریکا ہے، اور امریکی حکام کے مطابق حملے کے وقت امریکی فوج ملک کے جنوبی حصے میں کارروائیاں کر رہی تھی۔

اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں

حملے کے بعد پیر کو ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے کہا تھا کہ سمندر سے داغے جانے والے پہلے ہتھیار امریکی نیوی کی جانب سے فائر کیے گئے ٹوماہاک میزائل تھے۔ جب کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی بنیاد پر میرا خیال ہے کہ یہ کام ایران نے کیا ہے۔ کیوں کہ آپ جانتے ہیں کہ ان کے ہتھیار بہت غیر درست ہوتے ہیں۔ ان میں بالکل درستگی نہیں ہوتی۔ یہ ایران نے ہی کیا ہے۔‘‘

تاہم پروفیسر جیفری لیوس کے مطابق ویڈیو میں دکھائی دینے والا میزائل ایران میں بنائے جانے والے معروف کروز میزائل ڈیزائنز سے مطابقت نہیں رکھتا۔

امریکی نشریاتی ادارے این پی آر نے اس ویڈیو کے مقام کی تصدیق کی ہے، ویڈیو غالباً اس رہائشی منصوبے سے فلمائی گئی تھی جو کمپاؤنڈ کے سامنے سڑک کے پار زیر تعمیر تھا۔ متعدد تفصیلات، جن میں کلینک کے داخلی دروازے پر لگا سائن بورڈ بھی شامل ہے، اس جگہ سے مطابقت رکھتی ہیں جہاں اسکول واقع تھا۔ اس ویڈیو کا جغرافیائی محل وقوع سب سے پہلے آن لائن تحقیقی گروپ بلنگکیٹ نے شناخت کیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بھی آن لائن شیئر کی گئی ہیں، لیکن ایسی ویڈیوز عام طور پر کسی مخصوص مقام کی باریک تفصیلات نہیں دکھاتیں جب تک کہ وہ کوئی مشہور مقام نہ ہو۔ اس کے علاوہ ان میں میزائل یا راکٹ حملوں کی منظر کشی میں اکثر طبیعیاتی غلطیاں یا دیگر تکنیکی خامیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں