site
stats
پاکستان

کراچی: سولجر بازار میں تاریخی اسکول منہدم، ایس ایچ او معطل

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں لینڈ مافیا نے سنہ 1928 میں تعمیر ہونے والے تاریخی اسکول پر بلڈوزر چلا کر اسے منہدم کردیا۔ معاملے پر غفلت برتنے پر تھانہ سولجر ہاؤس کے ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق لینڈ مافیا نے کراچی کے علاقے سولجر بازار میں قائم قدیم  اور قومی ورثہ قرار دیئے گئے سرکاری اسکول کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے بھاری مشنیری کے ساتھ اسکول پر دھاوا بول دیا۔

بلڈوزر کی مدد سے اسکول کی چار دیواری سمیت کئی کلاسز کو منہدم کردیا گیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی نے الزام لگایا کہ قبضہ مافیا نے پولیس کے ساتھ مل کر اسکول ڈھانے کی کوشش کی۔

اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قبضہ مافیا پہلے بھی کئی بار اسکول گرانے کی کوشش کرچکی ہے۔

تاریخی اسکول کے منہدم ہونے کے باوجود آج پیر کی صبح طلبا بستے اٹھائے چلے آئے اور ملبے پر بیٹھ کر پڑھائی شروع کردی۔

واقعے کے بعد ای ایس پی ایسٹ فیصل چاچڑ نے تھانہ سولجر ہاؤس کے ایس ایچ او کو معطل کردیا۔

آئی جی سندھ کا نوٹس

آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے قدیم اسکول کو گرائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا حکم دے دیا۔

اسکول گرانے کے عمل میں پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کی خبر نشر ہونے کے بعد اے ڈی خواجہ نے انکوائری افسر آفتاب پٹھان کو واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمے داران کے خلاف تفصیلی رپورٹ تین دن میں پیش کی جائے۔

پولیس تحفظ دینے میں ناکام

صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر کا کہنا تھا کہ سرکاری املاک کا تحفظ پولیس کی ذمہ داری ہے لیکن پولیس اسکول کو تحفظ دینے میں ناکام رہی۔ اسکول گرانے کے وقت ہیڈ ماسٹر اکیلے وہاں موجود تھے۔

جام مہتاب کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے کو گرانا سنگین جرم ہے۔ واقعہ میں ملوث مافیا کے خلاف ایسا ایکشن لیں گے کہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس اسکول کو ماڈل اسکول بنا کر اسے مثالی تعلیمی ادارہ بنائیں گے۔

ڈپٹی میئر کا دورہ

دوسری جانب ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرا نے سولجر بازار میں گرائے گئے اسکول کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں واقعے کے خلاف اسمبلی میں قرارداد جمع کروانے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا نے رات کی تاریکی میں قیمتی اور تاریخی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے حکومت سندھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت پر حکومت سندھ کی کوئی توجہ نہیں۔

ڈپٹی میئر نے اسکول کی دوبارہ تعمیر کا اعلان بھی کیا۔

بعد ازاں سیکریٹری تعلیم نے اسکول کی تعمیر نو کے لیے محکمہ ورکس کو بھی طلب کرلیا۔ محکمہ ورکس کے عملے نے دیوار کی تعمیر کے لیے تعمیراتی سامان اسکول پہنچا دیا۔

اسکول کی تاریخ

کراچی کے مصروف ترین علاقے میں کئی ایکڑ پر پھیلے اس اسکول کا سنگ بنیاد جنگ عظیم دوم میں بچ جانی والی ایک خاتون جفل ہرسٹ نے رکھی۔

سنہ 1928 میں قائم ہونے والے اسکول میں ایک ہزار سے زائد طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ اس قدیم سکول سے کئی نامور شخصیات بھی تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔

بعد ازاں سنہ 1974 میں اسے گورنمنٹ اسکول کا درجہ دیا گیا۔ سندھ حکومت نے اسکول کی عمارت کی تزئین و آرائش دیکھتے ہوئے اسے قومی ورثہ قرار دیا۔

طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اسکول کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہونے لگی اوراب بڑی بڑی عمارتوں سے گھرا یہ اسکول لینڈمافیا کے نشانے پر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top