طالب علم کی ہلاکت، پولیس کا جائے وقوعہ کا جائزہ، اسکول اسٹاف کا بیان قلم بند -
The news is by your side.

Advertisement

طالب علم کی ہلاکت، پولیس کا جائے وقوعہ کا جائزہ، اسکول اسٹاف کا بیان قلم بند

کراچی: شہرِ قائد کے علاقے سمن آباد میں ایک اسکول میں حبیب اللہ نامی بچے کی موت کا معمہ دو دن بعد بھی حل نہ ہو سکا، ایس پی لیاقت آباد نے جائے حادثہ کا دورہ کر کے دھکا دیے جانے کے خیال کو مسترد کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق سمن آباد کے میٹرو پولس اسکول میں بچے کی موت کو دو دن گزر گئے ہیں لیکن حادثہ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، ایس پی لیاقت آباد شبیر بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ اتنی اونچی دیوار سے دھکا دینا بچوں کا کام نہیں۔

پولیس نے اسکول کے چوکیدار، ٹیچرز اور دیگر اسٹاف کے بیانات بھی قلم بند کر لیے

پولیس نے اسکول کے چوکیدار، ٹیچرز اور دیگر اسٹاف کے بیانات بھی قلم بند کر لیے۔ ایس پی شبیر بلوچ نے کہا کہ بچے نے خود چھلانگ لگائی یا اس کا پاؤں پھسلا۔

اسکول ٹیچر نے انکشاف کیا کہ گیارہ سال کا حبیب اللہ ایپی لیپسی کا مریض تھا، اکثر صبح میں طبیعت بگڑ جاتی تھی، اسکول پرنسپل نے کہا کہ اگر بچے کی موت کے وہ قصور وار نکلیں تو انھیں بھی یہاں سے دھکا دے دیا جائے۔

قبل ازیں ایس پی لیاقت آباد شبیر بلوچ جب میٹرو پولس اسکول پہنچے تو انھوں نے طالبِ علم حبیب اللہ کی کلاس سے چھت تک کا جائزہ لیا اور دعویٰ کیا کہ حبیب اللہ نے خود چھلانگ لگائی۔


یہ بھی پڑھیں:  کراچی: اسکول کی چھت سے گر کر جاں بحق ہونے والے بچے کی موت معمہ بن گئی


دوسری طرف اسکول انتظامیہ نے بھی اب تک سی سی ٹی وی دی نہ اہلِ خانہ نے واقعے کی ایف آر درج کرائی ہے، پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی بچے کی تدفین بھی سوالیہ نشان ہے۔

پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے بھی پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ گیارہ سالہ بچے کی موت کو خود کشی قرار دے دیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں