The news is by your side.

Advertisement

اسکرٹ پہننے سے انکار، برطانوی اسکول کی مسلم طالبہ اور والدین کو سنگین دھمکیاں

لندن: برطانیہ میں زیرتعلیم لڑکی نے گھٹنوں سے کم لمبائی والا اسکرٹ پہننے سے انکار کیا جس پر اسکول انتظامیہ نے والدین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں‌ دینا شروع کردیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے اسکول میں زیر تعلیم 12 سالہ شیہم حمود نامی طالبہ نے اسکول یونیفارم کو مختصر اور خلاف شریعت قرار دیتے ہوئے اسکرٹ پہننے سے صارف انکار کیا۔

طالبہ کے انکار پر ایک ٹیچر نے ایک ماہ قبل اُس کے کپڑوں کو اسکول یونیفارم کے منافی قرار دیا اور ہدایت کی کہ وہ نظم و ضبط پر ہر صورت عمل کرے بصورت دیگر اُسے نکال دیا جائے گا۔

طالبہ کے والد ادریس حمود کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ دسمبر میں ٹیچرز اُسے کلاس سے نکال کر گھر  کئی بار گھر بھیجا اور کہاکہ وہ اسکول کا یونیفارم یعنی اسکرٹ پہن کر واپس آئے۔

والدین نے مغربی لندن کے علاقے ہلنگ ڈان میں واقع یوکس بریج ہائی اسکول کی انتظامیہ سے اس معاملے پر بات کی اور سمجھانے کی کوشش بھی کی مگر انہوں نے اُن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دھمکیاں دیں۔

والدین کا کہنا تھا کہ اُن کی بیٹی اسکول یونیفارم کی طرح اور اُسی رنگ کپڑے پہن کر جاتی ہے مگر انتظامیہ کو یہ بات اچھی نہیں لگتی اور وہ ان کپڑوں‌ کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

والد نے بتایا کہ ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق بیٹی کو مختصر کپڑے نہیں پہنا سکتے جبکہ وہ خود بھی اس بات پر راضی نہیں ہے۔

اسکول انتظامیہ نے اب والدین کو ایک دھمکی آمیز لیٹر بھیجا جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بچی کئی روز سے اسکول نہیں آرہی، اب بھی اگر وہ یونیفارم میں نہ آئی تو اُس کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسکول انتظامیہ نے لیٹر میں یہ بھی لکھا کہ اگر شیہم مکمل یونیفارم میں نہ آئی تو اُس کی غیر حاضری شمار کی جائے گی، جس پر نہ صرف رزلٹ روکا جائے گا بلکہ جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے، اگر خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رہا تو عدالت سے نوٹس بھی بھیجا جائے گا۔

انتظامیہ نے کہا کہ بچی کی غیر حاضری کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے اور وہی اس بات کو یقینی بنائیں کہ اُن کی بچی مکمل یونیفارم میں اسکول آئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں