site
stats
صحت

تیس برس بعد بچوں کی پیدائش کیسے ہوگی؟ منفرد دعویٰ

معروف سائنس داں، ہنری ٹیگیلے کے مطابق، اگلے 30 برسوں کے دوران بچوں کی پیدائش کے لیے جنسی ملاپ کا رجحان ختم ہو جائے گا، کیونکہ تب تک ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کرچکی ہو گی کہ بچوں کو ڈیزائن کرنا عام ہوجائے گا۔

متوقع والدین لیبارٹری جائیں گے اور اپنے اسپرمز اور اسکن سیلز کی صورت اپنا خام مال مہیا کریں گے اور پھر سائنس دان ان کا پسندیدہ جنین انہیں پیش کریں گے۔’’دی اینڈ آف سیکس اینڈ دی فیوچر آف ری پروڈکشن‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے مضمون کے مطابق میڈیکل اور قانونی ماہر، ہنری ٹی گریلے کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ سروس قانونی حیثیت اختیار کرجائے گی اور اس پر اس قدر کم لاگت آئے گی کہ نہ صرف امیر افراد بلکہ ہر شخص اس سے مستفید ہوسکے گا۔

رپورٹ کے مطابق، 20سے 40 برسوں کے دوران ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ ترافراد عمل تولید کے لیے جنسی ملاپ ترک ک دیں گے اور اس کے بجائے متوقع والدین سے کہا جائے گا کہ اگر وہ درجنوں جنین میں جینیاتی ردوبدل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، تو ان میں سے ایک یا دو جنین نشوونما پانے، زمانہ حمل اور پیدائشکے مراحل کے بارے میں جاننے کے لیے منتخب کر سکتے ہیں اور یہ سارا عمل، محفوظ، قانونی اور مفت ہو گا۔‘‘

اس موقع پروالدین بتائیں گے کہ وہ اپنے بچے کو کس قدر پرکشش، چالاک اور صحت مند دیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی طرح بچے کی ذہانت کا بھی اندازہ لگایا جاسکے گا اور اس طریقے سے وراثتی بیماریوں کا تدارک بھی ممکن ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top