The news is by your side.

Advertisement

بلیک ہول پر نئی تحقیق، ماہرین نے بڑا دعویٰ‌ کردیا

بیجنگ: چین کے ماہرین فلکیات نے ایک اور بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بلیک ہول کے بارے میں جو کچھ اب تک سامنے آیا یہ اُس سے کئی گنا بڑا ہے ۔

جرنل نیچر (جریدے) میں شائع ہونے والی تحقیق سے قبل ماہرین فلکیات بلیک ہول کے حوالے سے مختلف آرا رکھتے تھے اور اُن کا ماننا تھا کہ بلیک ہول سورج سے 20 گنا بڑا ہے۔

ماہرین کا خیال تھا کہ بلیک ہول کے ارد گرد موجود سفید ستاروں کا جھرمٹ ختم ہورہا ہے جس کی وجہ سے آئندہ آنے والے وقتوں میں دنیا تاریک ہوجائے گی۔

مزید پڑھیں: بلیک ہول کا پُراسرار زار ، جسے انسانی آنکھ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا

چین کے ماہرین نے بلیک ہول کے حوالے سے تحقیق کی جس کے نتائج جنرل نیچر میں شائع کیے گئے ہیں۔

چینی ماہرین کے مطالعے میں جو بات آئی اُس کے بعد پرانے خیالات اور تحقیقات خود بہ خود ختم ہوجائیں گی۔

ماہرین کے مطابق ابھی تک ہمیں جو ثبوت ملے اُس کے مطابق بلیک ہول سورج سے 70 گنا بڑا ہے مگر یہ حتمی نہیں ہے کیونکہ ابھی اس پر مزید مطالعے کی ضرورت ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی آج تک 70 سورج ایک ساتھ نہیں دیکھے مگر بلیک ہول اُس سے بھی کئی گناہ بڑا ہے، ہمیں پہلی بار یہ سب دیکھ کر بہت زیادہ حیرت ہوئی‘۔

ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ بلیک ہول زمین سے 15 ہزار سال کی مسافت پر ہے جس کے اندر سے مقناطیسی شعاعیں نکل رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلیک ہول کی وجہ سے خلا میں تاریخ کا دوسرا بڑا دھماکا، ویڈیو دیکھیں

پرفیسر لیو جیفنگ کا کہنا تھا کہ ’بلیک ہول اتنا بڑا ہے کہ اسے ہماری کہکشاں میں موجود نہیں ہونا چاہیے، یہ کرہ ارض کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے’۔

خیال رہے کہ 10 اپریل 2019 کا دن سائنسی تاریخ کا ایک اہم دن تھا کیونکہ ماہرین فلکیات طویل عرصے سے سحر زدہ کیے رکھنے والے بلیک ہول کی پہلی تصویر لینے میں کامیاب ہوئے تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں