The news is by your side.

Advertisement

قید میں شدید تشدد کیا جارہا ہے، 6 دن سے بھوکا ہوں: جمشید دستی

ملتان: گرفتار رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے انکشاف کیا ہے کہ ان پر شدید تشدد کیا جارہا ہے، انہیں ایسی جگہ رکھا جاتا ہے جہاں چوہے، سانپ اور بچھو ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈنگا کینال کھولنے کے جرم میں گرفتار رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو ہتھکڑیاں لگا کر ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا کی عدالت لایا گیا۔

اس موقع پر ان کی پولیس وین کی جالیوں کے ذریعے گفتگو کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ روتے ہوئے چیف جسٹس سے اپنی حالت زار کا نوٹس لینے کی اپیل کر رہے ہیں۔

جمشید دستی روتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ پولیس کی حراست میں ان پر شدید تشدد کیا جارہا ہے، وہ 6 دن سے بھوکے ہیں اور انہوں نے کچھ نہیں کھایا۔

مزید پڑھیں : رکن قومی اسمبلی جمشید دستی گرفتار

انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو ان کی اپنی قید کا وقت یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جمہوری دور میں ان کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے۔ وہ کئی دن سے سو نہیں پائے ہیں، جبکہ ان کی بیرک میں چوہے، سانپ اور بچھو موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں، انہیں صرف غریب ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ 8 جون کو عوامی راج پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے ہیڈ کالو پر واقع ڈنگا کینال کو زبردستی کھولنے کی کوشش کی جس کے بعد محکمہ آب پاشی نے نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں جمشید دستی کو گرفتار کر کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

جمشید دستی مظفر گڑھ کے حلقہ این اے 178 سے گزشتہ دو انتخابات سے کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ انہوں نے سنہ 2010 میں بی اے کی جعلی ڈگری کا الزام لگنے پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی احکامات کے بعد جمشید دستی نے دوبارہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہو کر اسمبلی تک پہنچے۔ جمشید دستی نے سنہ 2012 میں پیپلز پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔


Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں