لندن حملوں کے ملزم کا پتا چل گیا، اسکاٹ لینڈ یارڈ کا دعویٰ Khalid Yousuf, London attacker, said British police
The news is by your side.

Advertisement

لندن حملوں کے ملزم کا پتا چل گیا، اسکاٹ لینڈ یارڈ کا دعویٰ

لندن: برطانوی پارلیمنٹ کے باہر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی، اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کا ذمہ دار خالد مسعود نامی برطانوی مسلم شہری ہے، برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ حملے سے خوف زدہ نہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق لندن پارلیمنٹ کے باہر ہونے والا حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے جبکہ حملہ آور خالد مسعود نامی برطانوی شہری ہے جو کہ لندن کے علاقے کاؤنٹی کینٹ میں پیدا ہوا۔


یہ پڑھیں: برطانوی پارلیمنٹ پر حملہ: 5 افراد ہلاک ‘40 زخمی


برطانوی تفتیش کاروں کو یقین ہے کہ ملزم خالد مسعود لندن کے علاقے ویسٹ مڈلینڈ میں رہائش پذیر تھا۔

پولیس کے مطابق مسعود جو اس حملے میں مار گیا تھا اس کے خلاف فی الوقت کوئی تحقیقات نہیں ہورہی تھیں البتہ وہ ماضی میں اسے کئی سزا ہو چکی تھی، ایسی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ مسعود کوئی حملہ کرنے والا ہے یا ایسے کسی اقدام کا اس کا کوئی ارادہ ہے۔

پولیس کے مطابق ماضی میں اس کئی مرتبہ سزا ہو چکی تھی اور اس وجہ سے پولیس کے ریکارڈ میں اس کا نام تھا اسے غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور نقص امن و اماں میں ملوث ہونے پر پہلی مرتبہ نومبر 1983ء میں سزا ہوئی تھی اور آخری مرتبہ سال  2003ء میں اسے چاقو رکھنے کے جرم میں پکڑا گیا لیکن ماضی میں اسے کبھی دہشت گردی کے الزام میں سزا نہیں ہوئی تھی۔

دوسری جانب لندن حملے میں ہلاک ہونے والی تین افراد کی شناخت ہوچکی ہے ان میں پولیس اہلکار کیتھ پارلمر، کالج ورکر عائشہ فرید اور امریکی سیاح کرٹ ڈبلیو کوکران شامل ہیں۔

حملہ آور ہمارا کارکن تھا، داعش

بی بی سی کے مطابق لندن حملے کے بعد دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) نے بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ حملہ کرنے والا ہمارا کارکن تھا۔

پولیس نے اب تک تحقیقات میں 8 افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔

حملہ آور سے چند سال قبل ایم آئی فائیونے تحقیقات کی تھیں، برطانوی وزیراعظم

حملے کے بعد برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویسٹ منسٹر پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں، حملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

 

انہوں نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی 4 ٹیمیں تحقیقات کررہی ہیں،برمنگھم میں 6مقامات کی تلاشی لی گئی ،8افراد کو گرفتار کیا، حملہ آور برطانوی شہری تھا حملہ آور کی شناخت تحقیقات کے باعث خفیہ رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حملے سے خوف زدہ نہیں،واقعے میں زخمی ہونے والوں میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، حملہ آور نے لوگوں پر گاڑی چڑھائی اور پولیس افسر پر حملہ کیا،حملہ آور سے چند سال قبل ایم آئی فائیو (برطانوی خفیہ ادارہ) نے تحقیقات کی تھیں،حملہ آور سے چند سال پہلے انتہا پسندی سے متعلق تحقیقات ہوئی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تازہ انٹیلی جنس رپورٹس میں حملہ آور کا نام شامل نہیں تھا، حملے پر بات سے زیادہ اہم ہمارے اس کے خلاف ایکشن ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں