بدھ, مئی 20, 2026
اشتہار

عمر، ارمان اور لوگ کیا کہیں گے؟

اشتہار

حیرت انگیز

ہمارے معاشرے میں عورت کی عمر اگر چالیس برس سے زیادہ ہو اور وہ بیوہ ہو، تو یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ اب اس کا اگلا اسٹیشن براہِ راست تسبیح اور جائے نماز ہے۔ اگر اس کا ایک جوان ہوتا بیٹا بھی ہو، تو گویا اس کی زندگی پر ’The End‘ کی مہر لگ چکی ہے۔ لیکن کیا انسان کے ارمان اور جینے کی خواہش بھی کسی شناختی کارڈ کی تاریخِ تنسیخ کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے؟

عجیب بات ہے کہ ہم قدیم ہندو معاشرے کی ‘ستی’ جیسی قبیح رسم پر تو لعنت بھیجتے ہیں، جس میں شوہر کی چتا کے ساتھ عورت کو زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ ہم فخر سے کہتے ہیں کہ اسلام نے بیوہ کو جینے کا حق دیا، اسے وراثت دی اور اسے نکاحِ ثانی کی ترغیب دے کر معاشرے کا فعال حصہ بنایا۔ مگر عملی طور پر ہمارا رویہ اس ‘ستی’ کی رسم سے کتنا مختلف ہے؟ ہم اسے لکڑیوں کی آگ میں تو نہیں جلاتے، لیکن تنہائی، حسرتوں اور طنز کے انگاروں پر تاحیات جھلسنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ آج کی ‘ستی’ وہ بیوہ ہے جو اپنے جذبات کا گلا گھونٹ کر صرف اس لیے زندہ رہتی ہے تاکہ معاشرہ اس کے کردار پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ آگ پل بھر میں خاک کر دیتی تھی، اور یہ خاموش سمجھوتا اسے تڑپا تڑپا کر ہر روز مارتا ہے۔

عجیب تضاد ہے کہ اسی معاشرے میں ساٹھ سال کے ’نوجوان‘ چھڑے اگر دوسری یا تیسری شادی کریں، تو اسے ’سنتِ نبوی‘ اور ’تنہائی کا علاج‘ قرار دے کر ڈھول پیٹے جاتے ہیں۔ مگر وہی تنہائی جب کوئی 40 یا 45 سال کی ایک بیوہ محسوس کرے، تو اسے ’بے حیائی‘ یا ’بیٹے کی دشمنی‘ سمجھا جاتا ہے۔

جب وہ عورت اپنے گھر کی دیواروں سے باتیں کرتے کرتے تھک جائے، تو اسے مشورہ دیا جاتا ہے کہ ’بیٹے کو دیکھو، اس کا گھر بساؤ‘۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ بیٹا کل اپنی زندگی شروع کرے گا، اپنی شریکِ حیات کے ساتھ خواب بنے گا، اور ماں پھر اسی خالی کمرے میں اکیلی رہ جائے گی جہاں پنکھے کی آواز بھی شور لگتی ہے۔

ہمارے ہاں خاندان کی بڑی بوڑھیاں ایسے موقع پر سی آئی اے (CIA) سے زیادہ متحرک ہو جاتی ہیں۔ اگر وہ بیوہ عورت کسی فنکشن میں تھوڑا سا میک اپ کر لے یا نیا جوڑا پہن لے، تو سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں: "ہائے ہائے، دیکھو تو ذرا! میاں کو مرے ابھی دو سال ہی ہوئے ہیں اور شوخی تو دیکھو۔” ایسا لگتا ہے جیسے میاں کے ساتھ ہی بناؤ سنگھار کا لائسنس بھی منسوخ ہو گیا ہو۔

عورت کا اپنا بیٹا بھی کبھی کبھی ’جذبات کی سیاست‘ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ ماں کی دوسری شادی اس کی تذلیل ہے۔ حالانکہ اصل تذلیل وہ ہے جب ہم اپنی ماں کو ایک انسان کے بجائے صرف ایک ’خادم‘ یا ’مقدس مورت‘ سمجھنے لگے۔ 40 سے 45 سال کوئی بوڑھی عمر نہیں ہے۔ یہ وہ عمر ہے جہاں انسان شعور کی بلندی پر ہوتا ہے اور اسے ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے دل کی دھڑکنوں کو سمجھ سکے، نہ کہ صرف اس کے پکا کر لائے ہوئے سالن کی تعریف کرے۔ خدا نے رشتے جوڑنے کا حکم دیا ہے، توڑنے کا نہیں۔ ایک عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی محبت کے ساتھ ساتھ ایک جیون ساتھی کی رفاقت بھی پائے۔ معاشرے کے ’طنز‘ عارضی ہیں، مگر ایک انسان کی ذہنی اور جذباتی صحت مستقل ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بیوہ ہونا کوئی جرم نہیں ہے اور دوبارہ زندگی شروع کرنا بھی کوئی گناہ نہیں۔ بیالیس یا پینتالیس سالہ عورت اگر شادی کرنا چاہتی ہے، تو وہ اپنی محرومیوں کا سودا نہیں کر رہی، بلکہ اپنی باقی ماندہ زندگی کو رنگوں سے بھرنا چاہتی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ تھک کر ہار جائے، اسے جینے کا حوصلہ دیں نہ کہ طنز کی نوک پر رکھیں۔

عمران الرحمٰن
+ posts

اہم ترین

مزید خبریں