site
stats
پاکستان

چیئرمین ایس ای سی پی ظفرحجازی کوگرفتارکر لیا گیا

اسلام آباد : چو ہدری شوگرمل ریکارڈ ٹیمپرنگ کیس میں چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ظفر حجازی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چو ہدری شوگرمل ریکارڈٹمپرنگ کیس میں چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی ، اسپیشل جج سینٹرل طاہر محمود نے کیس کی سماعت کی ، ظفرحجازی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ٹمپرنگ کے الزام میں ملوث2افسروں کو شامل نہیں کیا گیا ، ایس ای سی پی افسروں کے بیانات مشکوک ہیں۔

سماعت کے موقع پر ایف آئی اے کی جانب سے چیئرمین ایس ای سی پی کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی گئی، ایف آئی اے کا اپنے مؤقف میں کہنا تھا کہ انکوائری کے بعد شواہد کی بنیاد پرمقدمہ درج کیا، ظفرحجازی پر چوہدری شوگرمل کے ریکارڈمیں ٹیمپرنگ کا الزام ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور چیئرمین ایس ای سی پی ظفرحجازی کی عبوری ضمانت منسوخ کردی، جس کےبعد انھیں کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

دوسری جانب ظفرحجازی کی ایس ای سی پی افسرماہین کی ای میل تک رسائی کی کوشش کا انکشاف ہوا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ظفر حجازی نے ماہین کی ای میل تک رسائی کیلئے آئی ٹی افسر پر دباؤ ڈالا، آئی ٹی افسر نے ظفرحجازی کو بورڈ میٹنگ کے ذریعے رسائی کا جواب دیا، چیئرمین ایس ای سی پی ظفرحجازی نے 12 جولائی کو بورڈ کا اجلاس بلایا، ایف آئی اے نے تمام بورڈز ممبران کو طلب کرکے بیان ریکارڈ کرلیا، بورڈ ممبران نے ای میل تک رسائی مانگنے کے احکامات کی تصدیق کردی ہے۔


مزید پڑھیں :  ریکارڈ ٹیمپرنگ کیس میں چیئرمین ایس ای سی پی کی ضمانت منظور


اس سے قبل 11 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظفر حجازی کی 17 جولائی تک کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ایس ای سی پی کے 3 افسران علی عظیم اکرم، عابد حسین اور ماہین فاطمہ نے ایف آئی اے کے روبرو چوہدری شوگر ملز کے ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے الی جے آئی ٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ چیئرمین ظفر حجازی چوہدری شوگر ملز کے ریکارڈ میں ہیر پھیر میں ملوث تھے۔

سپریم کورٹ نے ایس ای سی پی چیئرمین ظفر حجازی پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کرنے اور رپورٹ جمع کرانے کے لیے ایف آئی اے کو ہدایات جاری کی تھیں۔

جس کے بعد ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کے حکم پر چیرمین ایس ای سی پی ظفرحجازی کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کے لیے ایس ایچ او، ایس آئی یو افضل نیازی کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top