The news is by your side.

Advertisement

رجسٹرڈ کمپنیاں ڈیمز کی تعمیر میں فنڈ دینے کی پابند، احکامات جاری

کراچی: سیکیورٹی ایکسچینج کمپنی آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے تمام رجسٹرڈ کمپنیوں کو ڈیمز کی تعمیر میں فنڈز دینے کا سرکلر جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے دیامربھاشا اورمہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈقائم کیا جس میں اسٹیٹ بینک و دیگر و نجی بینکوں سمیت دیگر سرکاری و پرائیوٹ اداروں کے ملازمین نے کروڑوں روپے عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔

ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے ایس ای سی پی نے اہم فیصلہ کیا جس کے مطابق اب تمام رجسٹرڈ کمپنیاں بھی اب ڈیم کی تعمیر میں فنڈ دینے کی پابند ہوں گی۔

ایس ای سی پی کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق ملک بھر کی تمام رجسٹرڈ 87 ہزار 622 کمپنیوں کو کمرشل سماجی ذمہ داری کے تحت ڈیموں کی تعمیر کے لیے فنڈ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈیمز کی تعمیر، شاہد آفریدی کا 15 اور حمزہ عباسی کا 3 لاکھ عطیہ دینے کا اعلان

دوسری جانب سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان کے ملازمین، افسران نے ایک دن کی تنخواہ ڈیمز کی تعمیر کے لیے دینے کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ہونے والی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے دیامیر بھاشا اور مہمند کو فوری تعمیر کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے فنڈز قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فنانس ڈویژن نے ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے دیامربھاشا ڈیم فنڈز قائم کرنے کیلئے مختلف اداروں کو خط ارسال کیا تھا جس میں آڈیٹر جنرل، کنٹرولرجنرل اکاؤنٹس، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان اور دیگر اداروں کے حکام سے لوگوں کی رقوم اسٹیٹ بینک اورنیشنل بینک کی برانچزمیں جمع کرانے کا انتظامات کے حوالے سے اقدامات کرنے کا کہا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس نے ڈیمز کی تعمیر کیلئے 10لاکھ روپے کا عطیہ جمع کرادیا

بعد ازاں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈیمز کی تعمیر کے لئے دس لاکھ روپے کا عطیہ جمع کرایا تھا جبکہ میئر کراچی اور پیر پگارا نے ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی تھی اور وسیم اختر  نے اپنی اور کے ایم سی افسران کی طرف سے ایک ایک لاکھ روپے فنڈ عطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد مسلح افواج نے ڈیموں کی تعمیر کے کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تینوں مسلح افواج کے افسران 2دن کی تنخواہ فنڈ میں جمع کرائیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں