The news is by your side.

Advertisement

چترال میں بکریوں پردفعہ 144 نافذ

چترال: چترال کے ایک چرواہے نے عجیب و غریب واقعہ بیان کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے اس کی بکریوں پر دفعہ 144 عائد کرتے ہوئے بکریوں کو چراہ گاہ تک لے جانے پرپابندی عائد کردی ہے جس کے سبب اس کے جانوار بھوکے مررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چترال کے علاقے سینگور (گان کورینی) سے تعلق رکھنے والے نور رحمان ولد عبداللہ کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر چترال نے ان کے بکریوں کو زیر دفعہ 144 گھر میں بند کر رکھنےکا حکم صادر کیا ہے اور ان کو چراہ گاہ تک لے جانے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے‘ جس کی وجہ سے یہ بے زبان مخلوق بھوک و پیاس سے مررہے ہیں۔

post-1

نور رحمان کا کہنا ہے کہ گاؤں کے ایک محالف فریق نے ان کے بکریاں پالنے کی محالفت کی تھی جس کے لئے انہوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور اسسٹنٹ کمشنر سے لیکر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کے عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیا ہےاوراب یہ کیس سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو کے عدالت میں زیر سماعت ہے۔ مگر ڈی سی چترال نے دفعہ 144 لگاکر ان کی پیٹ میں چھرا گھونپا ہے اور ان کی کئی بکریاں بھوک مر بھی گئی ہیں اور مزید مرنے کا احتمال ہے جس سے وہ بہت زیادہ مالی نقصان سے دوچار ہوگا۔


مزید پڑھیں: بکریاں موسمی تغیراورطوفانوں کا سبب بن رہی ہیں


اس کے بیٹے نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ان میں سے اکثر بکریوں نے بچے دیے ہیں مگر بھوک کی وجہ سے ان کی بچوں کو دودھ بھی پورا نہیں ہوتا اور وہ بھی بھوک کی وجہ سے مررہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چھ دن ہوگئے کہ ان کی بکریوں پر باہر چراہ گاہ میں لے جانے پر پابندی لگائی گئی ہے انہوں نے مزید کہا کہ گوجر برادری نہایت غریب لوگ ہیں۔

ان کے پاس کوئی تعلیم بھی نہیں ہے اور وہ صرف اور صرف بھیڑ بکریاں پال کر اپنے بچوں کے لیے رزق حلال کماتے ہیں اگرحکومت ہمیں کوئی متبادل روزگار دے تو ہم بخوشی ان بکریوں کو بیچنے کیلئے تیار ہیں مگر ہمیں کوئی ملازمت بھی نہیں ملتی نہ ہمارے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ کوئی متبادل کاروبار شروع کریں‘ ہم آباؤاجداد کے زمانے سے بھیڑ بکریاں پال کر رزقِ حلال کماتے آئے ہیں۔


مزید پڑھیں: بکرے کے روپ میں ڈھل جانے والا آدمی


  اس سلسلے میں جب ڈپٹی کمشنر سے ان کی موقف جاننے کی کوشش کی تو اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الاکرم نے ان کی ترجمانی کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ اس علاقے میں نور رحمان اور دوسرے مخالف گروپ کے درمیاں بکریاں پالنے پر تنازعہ چلتا آرہا ہے۔

post-2

مخالف گروپ کا موقف ہے کہ یہ بکریاں جنگل، پہاڑ اور چراہ گاہ میں چرائی کے دوران چھوٹے پودوں کو بیچ سے اکھاڑ کر کھاتی ہیں جس کی وجہ سے جنگلات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے جو سیلاب اور قدرتی آفات کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ مدعی کا مقدمہ اگرچہ عدالت میں زیر سماعت ہے مگر مخالف فریق کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ موسم بہار کی آمد ہے اور ان دنوں پودے اگ رہے ہیں جبکہ بکریاں ان چھوٹے پودوں کو جڑ سے اکھاڑ کر کھاتی ہیں اور یوں جہاں بکریاں پالی جاتی ہیں وہاں عموماً جنگل ختم ہوجاتا ہے۔ اس لیے ہم نے دفعہ 144 عائد کی ہے تاکہ فریقین کے درمیاں کوئی تنازعہ کھڑا نہ ہو جو انتظامیہ کے لئے درد سر کا باعث بنے۔

post-3

مقامی تنظیموں کی پابندی


انہوں نے کہا کہ چترال کے اکثر علاقوں میں مقامی تنظیموں نے بکریاں پالنے پر پابندی لگائی ہیں یا انہوں نے رضاکارانہ طور پر بکریاں بیچ کر ان کی جگہہ بھیڑ لی ہیں جو بکریوں کے نسبت زیادہ نقصان دہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں بکریاں پالی جاتی ہیں وہاں اکثر سیلاب آتے رہے ہیں۔

دوسری جانب نور رحمان گوجر نے صوبائی حکومت اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی بکریوں پر لگائی گئی پابندی دفعہ 144 کو فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ ان کی بکریاں بھوک و پیاس سے ہلاک نہ ہوں اوروہ مالی نقصان سے دوچار ہونے سے بچ جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں