The news is by your side.

Advertisement

مسئلہ کشمیر پر سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا

نیویارک: مسئلہ کشمیر پر سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا گیا، سلامتی کونسل کا اہم اجلاس پاکستان کی درخواست پر بلایا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسئلہ کشمیر پر 50 سال بعد سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج بلایا گیا ہے، اجلاس میں سلامتی قونصل اپنی ہی پانچ دہائیوں قبل کی قرارداد پر غور کرے گی ، سلامتی کونسل کے سامنے کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کی حالیہ صورتحال بھی ہوگی کہ کس طرح بھارت بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے۔

یہ بند کمرہ اجلاس امریکہ کے شہر نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے ہوگا۔ ہوگا۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی صدر کو خط لکھا تھا جس میں ان سے کونسل کے ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

دفترخارجہ کے مطابق سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنت کے غیرقانونی اقدام پر بات کی جائے گی جو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا خط سلامتی کونسل کی صدرکو پیش کیا تھا۔

پاکستان کا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ

مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی دنیا کو پاکستان کے بیانیے سے آگاہ کرنے میں متحرک نظر آرہے ہیں۔

یاد رہے کہ دو روز قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں امبیسیڈر بن کر کشمیر کی آواز دنیا میں اٹھاؤں گا۔

قرارداد پیش کرنے کا طریقہ

سلامتی کونسل کے پانچ رکن ممالک خود ایجنڈا تشکیل دیتے ہیں جسے کونسل کا صدر یو این کے تمام اراکین میں تقسیم کردیتا ہے۔ رکن ممالک اپنی تجاویز دیتے ہیں لیکن ہوتا پھر وہی ہے جو کونسل چاہتی ہے۔

قرارداد پاس کرنے کا طریقۂ کار بہت ہی پیچیدہ ہے۔ پہلے ڈرافٹ کی تیاری کچھ اس طریقے سے عمل میں لائی جاتی ہے کہ وہ سب کو قابل قبول بھی ہو۔

کونسل میں قرارداد پیش ہونے کے بعد ووٹنگ کا مرحلہ آتا ہے جس میں پانچ مستقل رکن ممالک کے علاوہ دس غیر مستقل رکن ممالک بھی حصہ لیتے ہیں۔

غیر مستقل رکن ممالک بھی قرارداد پر اپنی تجاویز دیتے ہیں لیکن اس کے بعد بھی ہوتا وہی ہے جو کونسل کے مستقل ارکان کی مرضی ہوتی ہے۔

جب یہ ممالک ایک حل پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر ہی کوئی نتیجہ نکلتا ہے لیکن اگر ایک رکن بھی متفق نہ ہو تو قرارداد ویٹو ہوجاتی ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں