اسلام آباد : مختلف جماعتوں کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارلحکومت کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور 2000 سے زائد پولیس اور ٹریفک اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے ایران پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی کال کے بعد وفاقی دارالحکومت کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کر کے بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔
وفاقی پولیس نے بتایا کہ ریڈ زون اور حساس مقامات کی حفاظت کے لیے 2000 سے زائد پولیس اور ٹریفک اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ریڈ زون کے اندر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے خصوصی انٹی رائٹس فورس بھی تعینات رہے گی۔
ٹریفک پولیس کی ایڈوائزی کے مطابق ریڈ زون کے بیشتر داخلی راستے بند رہیں گے تاہم ریڈ زون میں داخلے کے لیے صرف مارگلہ روڈ اور میریٹ ہوٹل والے راستے کھلے رہیں گے۔
کلثوم پلازہ سے فضل حق روڈ (بجانب چائنہ چوک) اور پولی کلینک سے لال کوارٹر چوک (لقمان حکیم روڈ) ٹریفک کے لیے بند ہوں گے جبکہ آبپارہ چوک سہروردی سے سرینا ہوٹل آنے جانے والی ٹریفک کے لیے متبادل راستے فراہم کیے گئے ہیں۔
ترجمان اسلام آباد پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج کے پیشِ نظر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر کے آغاز سے قبل ٹریفک الرٹس کو مدِ نظر رکھیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


