ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے کہا ہے کہ دشمن ایرانی سرزمین کی طرف میلی نظر ڈالنے کی جرأت بھی نہیں رکھتا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے بندرعباس میں بحری زون کے دورے کے موقع پر کہا کہ اگر آج ایران کی آبی سرحدوں پر مکمل امن قائم ہے تو یہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بحری جوانوں کی شبانہ روز قربانیوں اور کوششوں کے باعث ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنرل وحیدی نے مزید کہا کہ دشمن ایرانی جوانوں سے خوفزدہ ہیں اور اس سرزمین پر بری نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی بحریہ نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے بلکہ دشمنوں کے عزائم کو بھی ناکام بنانے میں مصروف ہے، یہی وجہ ہے کہ دشمن اس طاقتِ ایمانی اور دفاعی قوت کے سامنے بے بس ہیں۔
گزشتہ روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ وہ نیوکلیئر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران مغربی دباؤ قبول نہیں کرے گا، البتہ وہ واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
تاکہ اپنے جوہری پروگرام پر ایک منصفانہ معاہدہ طے کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی خدشات کا ازالہ کرنے کے لیے تیار ہے لیکن حملے کے بعد کسی قسم کی رعایت نہیں دے گا۔
نائیجرین صدر نے ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکی کا جواب دیدیا
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ہم پر امن مقاصد کے حامل اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن ہم یورینیم افزودگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایران جوہری پروگرام پر منصفانہ معاہدے پر پہنچنا چاہتا ہے لیکن امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط ناقابل قبول ہیں۔


