پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

سہواگ نے 2011 کا ورلڈ کپ بغیر نمبر کی جرسی پہن کر کیوں کھیلا؟ جانیے دلچسپ کہانی

اشتہار

حیرت انگیز

(20 جنوری 2026): دنیا بھر کے کرکٹرز کے برعکس سابق بھارتی کھلاڑی وریندر سہواگ بغیر نمبر کی جرسی پہن کر کھیلتے رہے جس کی وجہ بہت دلچسپ ہے۔

دنیا کے مشہور کھیلوں میں کھلاڑی مختلف نمبروں کی جرسی پہن کر کھیلتے ہیں۔ کرکٹ میں بھی ہر ملک کا کرکٹر علیحدہ نمبر کی جرسی پہن کر میدان میں اترتے ہیں۔ کھلاڑی یہ نمبر خود منتخب بھی کرتے ہیں، جن کا تعلق ان کے لکی نمبر یا دیگر سے ہوتا ہے۔

تاہم سابق بھارتی اوپنر وریندر سہواگ اپنے کیریئر میں مختلف نمبروں کی جرسی پہنتے رہے ہیں، تاہم اپنے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ 2011 کھیلنے کے لیے وہ بغیر نمبر کی جرسی پہن کر میدان میں اترے اور ٹیم کو ورلڈ کپ بھی جتوایا۔

بغیر نمبر کی جرسی کے پیچھے کیا دلچسپ کہانی ہے، جانیں گے تو آپ بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکیں گے۔

ساس بہو کی کہانی تو آپ نے ڈراموں بالخصوص بھارتی ڈراموں میں بہت دیکھی ہوں گی، بلکہ ایک ڈراما تو ’’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘ کے نام سے بہت مشہور ہوا تھا اور سالوں چلا تھا۔

وریندر سہواگ کے بغیر نمبر کی جرسی پہن کر ورلڈ کپ کھیلنے کے پیچھے ان کے اپنے گھر کی ساس بہو کی کہانی کا کردار ہے۔

سہواگ نے اپنے کیریئر کا آغاز انہوں نے 44 نمبر کی جرسی سے کیا۔ پھر 46 نمبر کی جرسی پہنی۔ اس کو 2 نمبر سے بدلا اور پھر کبھی 46 تو کبھی 2 نمبر کی جرسی پہنتے رہے۔ آئی سی سی نے بھی انہیں کہا کہ وہ کوئی ایک نمبر مستقل رکھیں بار بار تبدیل نہ کریں۔

اس سارے قصے کے پیچھے جو دلچسپ کہانی ہے وہ خود سہواگ نے بتائی۔ سہواگ نے بتایا کہ جب اپنا کیریئر شروع کیا تو ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ والدہ نے ایک جوتشی سے معلوم کر کے بتایا کہ ان کے لیے لکی نمبر 46 ہے، لہذا وہ اس نمبر کی جرسی پہنیں۔

لیجنڈری بھارتی اوپنر نے بتایا کہ انہوں نے والدہ کی خواہش کا احترام کیا اور طویل عرصہ تک وہ 46 نمبر کی جرسی پہن کر کھیلتے رہے۔ تاہم اس میں ٹوئسٹ آیا 2004 میں اس وقت جب ان کی شادی آرتی سے ہوئی۔

سہواگ کی اہلیہ جو خود علم الاعداد اور نجوم میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کے لیے لکی نمبر 2 بتایا اور انہیں اس نمبر کی شرٹ پہننے پر راضی کیا۔ تب سے جارح مزاج سابق اوپنر 46 اور 2 کے ہندسوں میں الجھے۔ کبھی ان سے والدہ ناراض ہوتیں تو کبھی بیوی۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے لیے خوش قسمتی کی علامت قرار دیے جانے والے یہ دونوں نمبر ان کے لیے خوش قسمت ثابت نہ ہوئے اور خراب کارکردگی کے باعث انہیں 2007 میں ٹیم سے ڈراپ کیا گیا۔

اس مسئلے کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ ٹیم میں واپسی کے بعد 2011 کا ورلڈ کپ بغیر نمبر کی جرسی پہن کر کھیلنے کا فیصلہ کیا تاکہ گھر میں کوئی ناراض نہ ہو۔ یہ فیصلہ نہ صرف خود ان کے خوش قسمت ثابت ہوا کہ بھارت 28 سال بعد ون ڈے ورلڈ کپ کی دوسری بار چیمپئن بنی۔

ایک ہی دن ’’2‘‘ پاک بھارت کرکٹ ٹاکرے!

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں