لعل کی درگاہ پر قیامت گزرے ایک برس بیت گیا lal shehbaz qalander sehwan
The news is by your side.

Advertisement

قلندر کی درگاہ پر قیامت گزرے ایک برس بیت گیا

سہون: معروف صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے دھماکے کو ایک سال کا عرصہ بیت گیا، خود کش دھماکے میں 90 سے زائد زائرین شہید جبکہ 343 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق سید عثمان بن مروندی امن و محبت اور اہل بیت کی قربانی کا پیغام لے کر مروند سے سندھ پہنچنے والے صوفی بزرگ کو لعل شہباز قلندر کا لقب ملا، گزشتہ برس 16 فروری کو مزار میں دھمال کے وقت خود کش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں میں سیکڑوں زائرین بشمول خواتین اور بچوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے، شہید اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا۔

دہشت گردوں نے صوفی بزرگ کے محبت کے پیغام کو مٹانے کی کوشش تو ضرور کی مگر شدت پسندی سے نفرت کرنے والے زائرین نے اُن کی اس حکمتِ عملی کو ناکام بنایا اور لعل شہباز قلندر کی درگاہ کو ویران نہ ہونے دیا۔

lal-post-1

واضح رہے کہ صوفی بزرگ سید عثمان بن مروندی امن و محبت اور حب اہل بیت کا پیغام لیے مروند سے سندھ آئے اور رہتی دنیا تک لعل شہباز قلندرٌ ہوگئے، انسانیت سے محبت اس عظیم ہستی کا درس تھا یہی وجہ ہے کہ ہر رنگ ونسل ،قومیت، فرقہ اور ذبان بولنے افراد کا یہاں تانتا بندھا رہتا تھا۔

امن کے دشمنوں کو محبت کیسے راس آتی اس لیے انہوں نے سندھ کے صوفی بزرگ لعل شہباز قلندرکی درگاہ کو خود کش دھماکا کر کے ان ہی کے عقیدت مندوں کے لہو سے لال کیا۔

post-1

دھماکے کے بعد سندھ حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس نے واقعے کی تفتیش کا آغاز کیا تو سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ خود کش حملہ آور کی نشاندہی کی گئی اور پھر مختلف شہروں میں کارروائی کرتے ہوئے سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا۔

mazar-post-1

درگاہ لعل شہباز قلندر پر خود کش دھماکا کا ذمہ دار کون ہے؟ برقعہ میں ملبوس کوئی خاتون تھی یا سی سی ٹی وی میں دکھایا گیا صحت مند نوجوان، حملہ آور کے سہولت کار کون تھے اور کیا دوبارہ دھماکا بھی کر سکتے ہیں ان سارے خدشات اور متضاد بیانات سے بے نیاز قلندر کے مریدوں نے کسی چیز کی پرواہ کیے بغیر ایک دن بھی دھمال کو رکنے نہیں دیا اور سارے سیکیورٹی حصار توڑ کر درگاہ مجیں میں داخل ہوئے جس کے بعد وقت نقارہ بھی بجایا گیا۔

مزید پڑھیں: سانحہ سہون:‌ خودکش حملہ آور کا سہولت کار گرفتار

یہ بھی پڑھیں: سیہون دھماکے کے سہولت کار حفیظ بروہی کی ویڈیومل گئی

لعل کی درگاہ پر ابھی زائرین کا خون جما ہوا تھا کہ اسی دوران مرید کھڑے ہوئے اور محبت کا پیغام دینے کے لیے دھمال ڈالنی شروع کی، معروف رقاصہ شیما کرمانی وہ واحد خاتون تھیں جنہوں نے اندوہناک سانحےکے بعد قلندر کی درگاہ میں دھمال ڈالی اور دہشت گردوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیا، اُس کے بعد سے یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے اور روزانہ آدھے گھنٹے جبکہ جمعرات کو ایک گھنٹے زائرین دھمال ڈالتے ہیں۔

صوفی بزرگ سے عقیدت رکھنے والے زائرین کا ماننا ہے کہ جب نقارہ بجتا ہے تو ایک وجد طاری ہوجاتا ہے جس کے بعد انسان اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے اور ہاتھ خود بہ خود رقص کرنے لگتے ہیں۔

قیامتِ صغریٰ کے ایک سال گزرنے پر عقیدت مند اور متاثرین افسردہ ضرور ہیں مگر وہ اس بات پر مطمئن بھی ہیں کہ انہوں نے شدت پسندی کو شکست دے کر قلندر کے فلسفے کو پروان چڑھایا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں