The news is by your side.

طغرل بیگ جس نے وسطی ایشیا اور یوریشیا کے علاقوں میں اسلام کا پرچم بلند کیا

رکن الدّین ابو طالب محمد بن میکائیل کا نام تاریخ میں‌ اس حکم راں اور فاتح کی حیثیت سے درج ہے جس نے کئی جنگجو اور وحشی قبائل کو ایک قوّت میں تبدیل کرکے نئی سلطنت کی بنیاد رکھی اور اپنی فتوحات سے اسلام کا بول بالا کیا۔

دنیا اسے طغرل بیگ کے نام بھی جانتی ہے جو ابو سلیمان داؤد چغری بیگ کے ساتھ مل کر سلجوقی سلطنت کی بنیاد رکھنے والا پہلا حکم راں تھا۔ اس فاتح نے صدیوں کی بادشاہت کو الٹ کر رکھ دیا اور ایک طرف مشرق میں‌ پیش قدمی سے کام یابیاں سمیٹیں تو دوسری طرف مشرقی ایران کے محاذ پر ہمیشہ کے لیے ترکوں کی دھاک بٹھا دی۔ اس نے اپنے زیرِ نگیں اور مفتوحہ علاقوں سے سالانہ خراج لیا اور انکار کرنے والے یا معاہدے سے پھر جانے والوں پر لشکر کشی کر کے ان کے تخت کو اکھاڑ پھینکا۔ مؤرخین کے مطابق وہ بغداد پہنچا تو عباسی خلیفہ نے اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دے دی اور اس کے بعد نیشاپور میں اس کا نام پہلی مرتبہ خطبے میں پڑھا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سلطان نے یوریشیا کے علاقوں کو فتح کر کے ایک بڑی مسلم سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔ اور اسی کے بطن سے بعد میں سلطنتِ عثمانیہ نے جنم لیا۔

خاندانِ سلجوقیہ کے بانی طغرل بیگ نے 990ء عیسوی میں دنیا میں آنکھ کھولی اور آج ہی کے دن 1063 میں وفات پائی تھی۔ سلجوقی سلطنت گیارہویں صدی عیسوی میں قائم ہوئی تھی اور یہ لوگ نسلاً اوغوز ترک تھے۔

وسطی ایشیا اور یوریشیا کے علاقوں میں اسلام کا پرچم بلند کرنے والے طغرل بیگ کی وفات کے بعد اس کی وسیع سلطنت کم زور پڑ گئی جس کا فائدہ یورپ کی غیرمسلم ریاستوں کے بادشاہوں نے اٹھایا اور آپس میں اتحاد کر کے سلجوقیوں کے خلاف سازشیں اور سلطنت کو برباد کرنے کی کوشش کرنے لگے‌۔ حکم رانوں کی غفلت اور کئی اسباب ایسے تھے جس نے بالآخر سلجوقی سلطنت کو مٹا ڈالا۔

مؤرخین نے عالمِ اسلام کی اس نام ور ہستی اور سلجوق سلطان طغرل بیگ کے دور کا ایک افسوس ناک واقعہ بھی رقم کیا ہے کہ طغرل جب بغداد میں داخل ہوا تو اس کے لشکر کے کچھ فوجیوں نے اُس وقت تک دنیا کا سب سے بہترین کتب خانہ جلا دیا تھا۔ یہ کتب خانہ ’’دارُالعلم‘‘ مشہور تھا۔ اسے محققین نے اسلامی دنیا کا سب سے پہلا عمومی کتب خانہ لکھا ہے جو 381ھ میں بغداد میں قائم کیا گیا تھا۔ اس میں‌ دس ہزار سے زائد کتب موجود تھیں۔ مشہور مؤرخ یاقوت الحموی الرّومی نے اپنی ایک کتاب میں‌ لکھا ہے کہ ’’دنیا میں اُس وقت تک ’’دارُالعلم‘‘ سے بہتر کوئی کتب خانہ موجود نہ تھا۔‘

Comments

یہ بھی پڑھیں