پیر, اپریل 13, 2026
اشتہار

برکیاروق:‌ سلجوق خاندان کا مشہور حکم راں

اشتہار

حیرت انگیز

اسلامی تاریخ میں دولتِ عباسیہ کے زوال کو ایک بڑا واقعہ سمجھا جاتا ہے جس کے بعد سوال یہ بھی تھا کہ مستقبل میں اسلامی وحدت اور مسلمانوں کی طاقت پارہ پارہ نہ ہوجائے۔ ان‌ حالات میں سلجوق خاندان کا کارنامہ یہ رہا کہ انھوں نے عالمِ اسلام کو ایک مرکز پر اکٹھا کیا اور اسے قوّت بخشی۔ یہی وجہ ہے کہ سلجوق خاندان کو اسلامی ریاستوں میں بڑی قدر و منزلت اور تکریم حاصل تھی۔ برکیاروق اسی خاندان کے چوتھے حکم راں تھے، جن کا دور تخت کے جھگڑے، بغاوتیں اور سیاسی اختلافات نمٹاتے ہوئے گزر گیا۔

سلجوق سلطنت کے بانی نسلاً اوغوز ترک تھے۔ اس خاندان نے گیارھویں صدی میں تخت سنبھالا تھا۔ سلطان ملک شاہ اوّل کا انتقال 1092ء میں ہوا جس کے بعد خاندان میں اقتدار کے لیے رسہ کشی شروع ہوگئی اور اسی میں سلجوق سلطنت تقسیم ہوگئی۔ شاہ اوّل کی اولادوں میں سے ایک برکیاروق تھے۔ ان کی والدہ زبیدہ خاتون تھیں۔ سلجوق حکومت وسطی ایشیا اور یوریشیا کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی جسے خاندان میں افتراق اور اقتدار کی جنگ کے دوران بہت نقصان پہنچا اور سلجوقوں کی طاقت اور ان کا اثر و رسوخ کم ہوگیا۔

سلجوقیوں نے عباسی خلافت کو سیاسی استحکام فراہم کیا۔ کیوں کہ ان کے بزرگ طغرل بیگ نے عباسی خلیفہ سے "سلطان” کا خطاب پانے کے بعد ان کی کمزور خلافت سے اپنے لیے حمایت حاصل کی تھی۔ تاکہ عالمِ اسلام میں‌ سلجوق سلطنت کی قبولیت اور احترام برقرار رہ سکے۔ سلجوقی دور میں علمی میدان میں ترقی دی گئی اور تعلیمی اداروں کو فروغ حاصل ہوا تھا۔

تاریخ داں اور محققین برکیاروق کا سنہ پیدائش 1081ء بتاتے ہیں جن کا اقتدار دو دسمبر 1104ء میں ان کی وفات تک برقرار رہا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ داخلی اختلافات کے باوجود وہ بطور سلطان اپنی سلطنت کو متحد رکھنے کی کوشش کرتے رہے اور اس میں‌ کام یاب بھی ہوئے۔ تاریخ پر مبنی کتب میں ہے کہ ملک شاہ کی وفات کے بعد برکیاروق کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔ سلطان کی آنکھیں‌ بند ہوتے ہی اس کے بھائیوں اور چار بیٹوں میں تخت کے لیے اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ ملک شاہ کی دوسری بیوی ترکان خاتون اپنے نوعمر بیٹے کو بادشاہ بنانا چاہتی تھی۔ اس نے امراء کو لالچ اور طاقت کے بل پر اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور سلطنت کی اہم شخصیات کا اعتماد حاصل کرکے برکیاروق کو قید کرلیا تھا۔ محمود اس وقت نہایت کم عمر تھا اور سلطان کے طور پر اس کے نام کے اعلان کے لیے عباسی خلیفہ سے بھی اجازت لے لی گئی، لیکن پھر صورتِ حال ان کے حق میں نہیں‌ رہی۔ ادھر برکیاروق کی حقیقی والدہ زبیدہ بیگم نے بھی اشرافیہ اور دوسری بااثر شخصیات سے رابطہ کرکے مدد کی درخواست کی اور کسی طرح ان کی مدد حاصل کرنے کے بعد اصفہان میں قید اپنے بیٹے کو آزاد کروا لیا اور پھر تخت بھی حاصل کرنے میں کام یاب ہوگئیں۔

مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس وقت ترکان خاتون اپنے بیٹے محمود اوّل کے ساتھ دارالخلافہ بغداد میں تھی اور اسے اپنے مخالفین کا راستہ روکنے کا موقع نہیں‌ مل سکا۔ فوج نے برکیاروق کا ساتھ دیا اور یوں برکیاروق اپنے ہی خاندان میں مزاحمت اور بغاوت کو فرو کرتے ہوئے حکم راں‌ بن گئے اور بعد میں تمام یورشوں کو کچل دیا۔ اس دوران خوں ریز تصادم ہوا، باغیوں اور سرکش گروہوں کی سرکوبی کے ساتھ تخت کے تمام دعوے داروں کو ختم کردیا گیا اور پھر برکیاروق کی بادشاہی قبول کرلی گئی۔ انھیں‌ اس وقت کے عباسی خلیفہ نے بغداد طلب کیا اور خلعت سے نوازا۔ ان کے نام کا خطبہ جامع بغداد میں پڑھوایا اور سلطنت کے اختیارات برکیاروق کو سونپنے کا اعلان کیا جس سے ان کے اقتدار کو تقویت ملی اور عوام میں‌ ان کی طاقت اور اثر و رسوخ بڑھا۔

برکیاروق نے بعد میں کئی چھوٹے بڑے اور آزاد علاقوں کے سرداروں کو پیغام بھیجا اور اپنا مطیع اور تابع فرمان بنا لیا۔ لیکن دور دراز تک سلطان کا اپنی گرفت مضبوط رکھنا آسان نہیں تھا بلکہ اکثر امراء و سپاہ سے جواب دہی اور ان کی باز پرس بھی مشکل تھی۔ ایک روز انھیں اپنی والدہ زبیدہ بیگم کے قتل کی خبر ملی اور حالات اتنے خراب ہوئے کہ خود سلطان برکیاروق کو بغداد چھوڑنا پڑا۔ اور جب ان کی واپسی ہوئی تو اپنے بھائی محمود سے جنگ لڑنا پڑی جس میں جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد بالآخر چند شرائط پر معاملہ ختم ہوا۔ سلطان برکیاروق کو محمود سے اپنے علاقوں اور شہروں کی مستقل حکم رانی کا معاہدہ کرنا پڑا تھا۔

الغرض سلطان برکیاروق کا دور لڑائیوں اور بغاوتوں کو فرو کرتے گزر گیا۔ وہ ایک مرض میں مبتلا ہوکر انتقال کرگئے۔ سلطان نے اپنے بیٹے ملک شاہ دوم کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا جس کی عمر اس وقت محض پانچ سال تھی۔ برکیاروق کا مدفن اصفہان میں ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں