The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں پانی کی بلیک میں فروخت جاری

کراچی: پاکستان کے سابقہ دارالحکومت اور اکانومک حب کراچی میں جہاں ایک طرف گرم موسم کا قہر برس رہا ہے وہاں دوسری طرف پانی کی بلیک میں فروخت بھی جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر بورڈ کی انتظامیہ مختلف علاقوں کو سرکاری ہائیڈرنٹس سے پانی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

کراچی کے متعدد علاقے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، رمضان کے مقدس مہینے میں صورت حال اور بھی خراب ہوگئی ہے جب کہ مقامی حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

ضلع غربی میں واٹر بورڈ کا عملہ اپنے من پسند علاقوں کو پانی فراہم کر رہا ہے جب کہ دیگر علاقوں کو غیر قانونی طور پر پانی سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا ہے۔

واٹر بورڈ کے 8 نمبر ہائیڈرنٹ سے علاقہ مکینوں کو پانی بلیک میں فروخت کیا جارہا ہے، معلوم ہوا ہے کہ پانی کی فروخت میں واٹر بورڈ کا عملہ خود ملوث ہے، جس کی وجہ سے علاقہ مکین 4 سے 6 ہزار روپے میں ٹینکرخریدنے پر مجبور ہیں۔

قہر انگیزگرمی : کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا


شہر کے متعدد علاقوں میں پانی کی ترسیل نہیں ہو پارہی ہے، جن میں بلدیہ ٹاؤن، قائم خانی کالونی اورسعید آباد کےعلاقوں کے علاوہ نارتھ ناظم آباد بلاک اے، حسرت موہانی سوسائٹی، نارتھ کراچی سرسید ٹاؤن، پاپوش نگر، پہاڑ گنج، ڈی سلوا ٹاؤن، قائد آباد، ملیر، گلستان جوہر بلاک 14، گلشن معمار، محمود آباد اور لیاری شامل ہیں جب کہ سائٹ میٹروول میں دو ماہ سے پانی بند ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں،مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں