The news is by your side.

شیوسینا کے کارکنوں نے خورشید قصوری کی کتاب کے آرگنائزر پر کالا رنگ پھینک دیا

ممبئی : انتہا پسند ہندوتنظیم شیوسینا کی پاکستان دشمن مہم عروج پر ہے، مشہور پاکستانی غزل گائیک غلام علی کو دھمکیاں دینے کے بعد شیوسینا کے کارکنوں نے سابق پاکستانی وزیرخارجہ خورشید قصوری کی کتاب کے آرگنائزر پر کالا رنگ پھینک دیا.

مودی سرکار کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندو تنظیم شیو سینا پاکستان دشمنی میں آپے سے باہر ہوگئے، سابق پاکستانی وزیرخارجہ خورشید قصوری کی کتاب کی رونمائی کودھمکیوں سے روکنے کی کوشش جب ناکام ہوئی تو تقریب کے آرگنائزر سدھیندر کلکرنی کو کالے آئل پینٹ سے نہلا دیا۔

حملے کی فخریہ طور پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے شیوسینا نے یہ بڑھک بھی ماری کہ حملہ نرم کارروائی تھی، پاکستانیوں کو بلانے کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو مزید کارروائیاں کریں گے۔

سدھیندرکلکرنی نے بھی دو ٹوک کہہ دیا کہ خورشید قصوری کی کتاب کی رونمائی ضرور ہوگی کیونکہ شیوسینا کے گڑھ ممبئی کے واسی پاکستان اور بھارت میں امن چاہتے ہیں۔

سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری نے سدھیندرکلکرنی پرحملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ احتجاج پرامن ہونا چاہیے، ممبئی میں قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی کے منتظم سدھیندرا کلکرنی کا کہنا ہے کتاب کی رونمائی آج کی جائیگی.

ممبئی میں میڈیا بریفنگ میں خورشید قصوری کا کہنا تھا کہ بھارتی فنکاروں پر پاکستان میں پرفارم کرنے پرکوئی پابندی نہیں، عوام کے رابطوں سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہترہوسکتے ہیں۔

کتاب کی رونمائی تقریب سے پہلے ہی شیوسینا کی داداگیری کا نشانہ بننے والے سدھیندرا کلکرنی نے کہا شیوسینا نے تقریب نہ کرنے کی دھمکی دی تھی، سدھیندرا کلکرنی کا کہنا تھاکہ دونوں ملکوں کے عوام لاٹھی، گولی نہیں امن ومحبت چاہتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں