The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر پابندی غیر قانونی قرار دے دی

اسلام آباد:سینیٹر کامل علی آغا کے زیرصدرات آج سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کااجلاس ہوا جس میں کمیٹی نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر پابندی غیر قانونی قرار دے دی.

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےاطلاعات کا اجلاس سینیٹرکامل علی آغا کی زیر صدارت ہواجس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے پیمرا سےڈاکٹرشاہد مسعودکے پروگرام پرنوٹس لینے کی وضاحت مانگ لی.

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات نے کہا قائمہ کمیٹی کو تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ساتھ بنایاگیا میڈیا کا ضابطہ اخلاق وزارت اطلاعات نےسپریم کورٹ میں پیش ہی نہیں کیا.

سینیٹرکامل علی آغاکاکہناتھاکہ حکومت کو چاہیےتھا سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کا تیارکردہ ضابطہ اخلاق پیش کرتی.انہوں نےکہاکہ پیمرا کوغیرسیاسی دیکھناچاہتےہیں.

دوران اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات اورچیئرمین پیمراکےدرمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا.سینیٹرکامل علی آغا کا کہنا تھا کہ چیئرمین پیمرا غیر متعلقہ اخباری تراشے دکھا کرانہیں متاثر کرنےکی کوشش نہ کریں.

کامل علی آغا نے استفسار کیا شوکاز اےآر وائی نیوزکو دیا اور پابندی اینکر پر لگائی گئی. میرا اور آپ کا قانون نہیں چلےگا آئین پاکستان چلےگا.

انہوں نےاستفسارکیاکہ اینکر کو وضاحت کا موقع دیا ہے تو بتائیں،کسی کو بغیر سنےسزا نہیں دی جاسکتی جس پرابصارعالم کاکہناتھاچینل کوکونسل آف کمپلینٹ کےسامنےپیش ہونےکاموقع دیاگیا.

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات نےاستفسارکیاکس قانون کے تحت شاہد مسعود پرپینتالیس دن کی پابندی لگائی،چیئرمین پیمراآرٹیکل ستائیس پڑھ کرسنائیں.جس پر ابصارعالم نےجواب دیتےہوئےکہا چیئرمین صاحب جذباتی نہ ہوں.

*پیمرا نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام لائیو ود شاہد مسعود پر پابندی لگا دی

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پیمرا نے اے آروائی کے پروگرام ’’لائیو ود شاہد مسعود‘‘پر کی پابندی لگادی تھی اور ساتھ ہی ڈاکٹر شاہد مسعود پر بھی پابندی لگائی گئی.

*اسلام آباد ہائی کورٹ کا ’لائیوود شاہد مسعود‘ جاری رکھنے کا حکم

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آبادہائیکورٹ میں پروگرام ’لائیوود ڈاکٹرشاہدمسعود‘ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نےاے آروائی نیوز کے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود ‘  کو جاری رکھنے کا حکم دے دیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں