اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے اسٹیشنری اشیاء پر پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی مخالفت کردی اور کہا اس اقدام سے طلبہ اور والدین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پنسل، قلم، جیومیٹری باکس اور دیگر تعلیمی اسٹیشنری اشیا پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت سامنے آگئی۔
فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی اسٹیشنری اینڈ ٹیکسیشن کمیٹی کے رکن ریاض الدین نے کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شاپنر، مشقی کتابیں، گلو، رائٹنگ پیڈز اور کلر پنسل سمیت تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی اشیا پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد نہ کیا جائے۔
ریاض الدین نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی، اس لیے تعلیمی سامان پر اضافی ٹیکس عائد کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے طلبہ اور والدین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی ضروریات سے وابستہ اشیا کو مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے تاکہ تعلیم کے اخراجات میں مزید اضافہ نہ ہو۔


