جمعہ, جولائی 10, 2026
اشتہار

سینیٹ کمیٹی کا چاروں صوبوں سے ‘غیرت کے نام پر قتل’ کے کیسز کا ریکارڈ طلب

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے چاروں صوبوں سے غیرت کے نام پر قتل کی تفصیلات طلب کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کمیٹی کا اہم اجلاس سینیٹر ثمینہ زہری کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا،جس میں صوبائی پولیس حکام نے صوبوں میں خواتین کے خلاف جرائم اور سزاؤں کی شرح پر بریفنگ دی۔

کمیٹی نے ملک بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چاروں صوبوں سے تفصیلات طلب کر لیں۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر ثمینہ زہری نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں غیرت کے نام پر قتل کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ریاست اس کا مؤثر تدارک کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف تین سال کے دوران بلوچستان میں غیرت کے نام پر 218 کیسز سامنے آئے۔

انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ "بلوچستان میں تو اب بھی وڈیرا سسٹم قائم ہے”، جو انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

ڈی آئی جی کرائم برانچ بلوچستان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے صرف ایک ضلع نصیر آباد میں 173 کیسز رپورٹ ہوئے، لیکن شواہد نہ ہونے کے باعث ملزمان عدالتوں سے بری ہو گئے۔

انہوں نے صوبے میں تفتیشی نظام کی خامیاں ااجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں کوئی جدید فرانزک لیب موجود نہیں ہے، ایسے واقعات کی ایف آئی آر بہت تاخیر سے درج کی جاتی ہے جبکہ مقدمات کی تاخیر اور سائنسی شواہد کی کمی کا پورا فائدہ ملزم کو پہنچتا ہے اور وہ بچ نکلتا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی پنجاب شہزادہ سلطان نے کمیٹی کو صوبے کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کے 1127 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران 650 اہم کیسز میں سے صرف 192 ملزمان کو سزائیں سنائی جا سکیں، جس کے مطابق پنجاب میں ان مقدمات میں سزاؤں کی مجموعی شرح محض 23 فیصد بنتی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب پولیس نے خواتین پر تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے لیے کئی بہترین اور انقلابی اقدامات کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اس وقت ‘ریپ ایکٹ’ نافذ ہے اور اس کے لیے الگ سے خصوصی یونٹ کام کر رہا ہے   اب متاثرہ خواتین کو شکایت درج کرانے کے لیے خود تھانوں میں جانے کی ضرورت نہیں رہی، کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس خود متاثرہ خواتین تک فوری پہنچ جاتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں رواں برس غیرت کے نام پر قتل کے 39 کیسز درج ہوئے ہیں، اور پولیس کے بروقت اقدامات کی بدولت رواں سال ایسے لرزہ خیز کیسز میں 50 فیصد تک واضح کمی دیکھی گئی ہے۔

اہم ترین

مزید خبریں