سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ‘ عدالت کی الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت سے جواب طلبی -
The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ‘ عدالت کی الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت سے جواب طلبی

لاہور :ہائی کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پر سینیٹ انتخابات کالعدم قرار دینے کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت سمیت فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج لاہور ہائی کورٹ میں جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی گئی‘ درخوات میں کہا گیا کہ سینیٹ انتخابا ت میں بدترین دھاندلی اور خلاف آئین اقدامات کیے گئے ہیں۔

درخواست میں کہا گیاہے کہ نہال ہاشمی کی خالی ہونے والی نشست پر انتخابات میں خفیہ رائے شماری نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی کئے جا سکتے ہیں مگر ن لیگی اراکین اسمبلی ووٹ دکھا کر کاسٹ کرتے رہے جو کہ آئین اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ رائے شماری نہ ہونا واضح طور پر دھاندلی اور آئین سے بغاوت ہے جس کی بنیاد پر انتخابات کو یہ عدالت کالعدم قرار دے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نہال ہاشمی کی خالی ہونے والی نشست کے علاوہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی گئی اورآرٹیکل باسٹھ تریسٹھ پر پورا نہ اترنے والے کامیاب ہوئے ‘ لہذا سینیٹ کی تمام نشستوں پر ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے‘ جس پر عدالت نے الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت اور دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیے جانے کے بعد سینیٹ کی نشست خالی ہوئی تھی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ ماہ 2 فروری کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے والے مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی کی نشست خالی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

نہال ہاشمی کی خالی نشست پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ ڈاکٹر اسد میدان میں تھے جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے ان کے مقابلے میں ڈاکٹر زرقا کو نامزد کیا تھا‘ ڈاکٹر اسد یہ مقابلہ جیت گئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں