اسلام آباد : سینیٹ قائمہ کمیٹی صحت کی فارمولا دودھ کے اشتہارات ٹی وی پر چلانے سے روکنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا سوال کیا کیا فارمولا دودھ پینے سے بچہ آئن اسٹائن یا سپرمین بن جاتا ہے؟
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے فارمولا دودھ کی مارکیٹنگ اور معیار کے حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے "مافیا” قرار دے دیا۔
کمیٹی نے وزارتِ صحت کو فوری طور پر ٹی وی اشتہارات کی بندش کے لیے پیمرا کو خط لکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے فارمولا دودھ کے اشتہارات اور ان میں کیے جانے والے دعوؤں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا "فارمولا دودھ کے ڈبے پر بدترین جھوٹ لکھا ہوتا ہے، کیا اسے پینے سے بچہ آئن اسٹائن یا سپرمین بن جاتا ہے؟”
انہوں نے کہا کہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کا معاملہ ہے، فارمولا دودھ ایک مافیا ہے لیکن ہم نتائج کی پرواہ کیے بغیر ایکشن لیں گے۔
سینیٹر ناصر محمود بٹ نے وزارتِ صحت کے حکام کی عدم سنجیدگی پر کہا کہ "حکام چیئرمین کو سنجیدہ نہیں لے رہے، آپ کو سخت ایکشن لینا ہوگا۔”
کمیٹی نے بچوں کی صحت کے حوالے سے ہدایت کی وزارتِ صحت فوری طور پر پیمرا کو خط لکھے تاکہ فارمولا دودھ کے اشتہارات ٹی وی پر چلانے سے روکے جا سکیں۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ فارمولا دودھ کی ریگولیشن کا اختیار صوبائی فوڈ اتھارٹیز کے بجائے ‘ڈریپ’ کے پاس ہونا چاہیے۔
وزارتِ صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں پیمرا کو لکھے گئے خط کی کاپی کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔
قائمہ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ فارمولا دودھ کی مارکیٹنگ کو ریگولیٹ کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ماؤں کو گمراہ کن اشتہارات سے بچایا جا سکے اور بچوں کی قدرتی غذا (ماں کے دودھ) کی اہمیت کو برقرار رکھا جا سکے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


