The news is by your side.

Advertisement

فاٹا کے پیسے بچا کر کیا پورے ملک پر لگانے ہیں؟سینیٹ قائمہ کمیٹی ناراض

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سفیران کے اجلاس کے دوران فاٹا کی تعلیمی اور صحت کے شعبے میں درپیش مسائل اور ان کے حل کی تجاویز کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، اراکین کا کہنا تھا کہ کیا فاٹا کے پیسے بچا کر پورے ملک پر لگانے ہیں؟ بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سفیران کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ہلال الرحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

سینٹر ستارہ ایاز کا کہنا تھا فاٹا سیکرٹریٹ میں کلاس چار کے ملازمین سات سے آٹھ ہزار تنخواہ لے رہے ہیں کئی ڈاکٹر چار برس سے زائد عرصہ گزار چکے ہیں لیکن انہیں مستقل نہیں کیا گیا۔

سیکریٹری پی اینڈ ڈی فاٹا کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کم سے کم تنخواہ 14 ہزار کی گئی ہے لیکن پالیسی میں 7 ہزار ہے امید ہے کہ فاٹا اصلاحات میں یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔

اجلاس میں سینیٹر صالح شاہ کا کہنا تھا کہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ ساؤتھ وزیرستان سے اتنا برا سلوک کیو ں کیا جاتا ہے۔ سیکریٹری پی اینڈ ڈی فاٹا کے مطابق وانا سے بھی دس کلو میڑ آگے ہسپتال میں بہترین مشینری موجود ہے لیکن کم تنخواہوں پر وہاں کوئی جانا نہیں چاہتا۔

اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ جو پالیسی فاٹا کے لیے بنائی گئی ہے وہ پنجاب اور سندھ میں بھی ہے، فاٹا سے پیسے بچا کر کیا پاکستان میں ترقی کرنی ہے، فاٹا کے تعلیمی اور صحت کے معاملات کی پیچیدگیوں پر غور کرنے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

کمیٹی نے اجلاس میں پولیٹیکل ایجنٹ ٹرانسفر اور پوسٹنگ پر بھی بریفنگ دی گئی جس پر چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ جو سوال پوچھے گئے ہیں ان کے جواب موجود ہی نہیں ہیں، کمیٹی کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو آئندہ اجلاس میں آنے کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں