The news is by your side.

Advertisement

فاٹا پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بریفنگ، ٹیکسوں کی بوچھاڑ پر اظہار تشویش

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سیفران میں فاٹا (کے پی میں ضم شدہ قبائلی علاقہ جات) پر اراکین کو بریفنگ دی گئی، جس میں فاٹا کے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سیفران کا تاج محمد آفریدی کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا، چیئرمین کمیٹی نے اجلاس میں یاد دلایا کہ حکومت نے فاٹا اصلاحاتی عمل کے نام پر کچھ وعدے کیے تھے۔

چیئرمین کمیٹی تاج آفریدی نے کہا کہ فاٹا والوں سے جو وعدے کیے گئے ان پر عمل درآمد حکومتی ذمہ داری ہے، فاٹا کے بے حال عوام پر ٹیکسوں کی بوچھاڑ کر دی گئی ہے۔

اجلاس میں اراکین کو ایف بی آر اور ٹیسکو کی جانب سے فاٹا میں بجلی کے ٹیکس محصولات کے معاملے پر بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  حکومت نے انضمام شدہ قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے 10 سالہ منصوبہ بندی کر لی

اراکین کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات کے نام پر 5 سال تک کوئی ٹیکس نہ لینے کا فیصلہ ہوا تھا، رکن کمیٹی اورنگ زیب اورکزئی نے کہا کہ فاٹا والوں سے بجلی پر ٹیکس وصولی نا انصافی ہے۔

دوسری جانب ٹیسکو حکام نے بریفنگ میں کہا کہ فاٹا کے ذمے 2 ارب روپے کے واجبات ہیں، بجلی کے بل نہ ملنے تک آگے نہیں بڑھ سکتے۔

دریں اثنا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک اور زرعی ترقیاتی بینک کے حکام کو طلب کر لیا۔

یاد رہے کہ 17 اپریل کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں ضم شدہ قبائلی علاقہ جات کی تعمیر و ترقی میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا تھا، اور یہ کہا گیا تھا کہ حکومت نے خیبر پختون خوا میں ضم کیے گئے علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے 10 سالہ منصوبہ بندی کر لی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں