The news is by your side.

Advertisement

قائمہ کمیٹی اجلاس: سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کی سفارش

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کمیٹی نے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی سفارش کی۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین فاروق نائیک کی زیر صدارت ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فنانس ترمیمی بل پر غور کیا گیا۔

کمیٹی نے بلوچستان میں نکلنے والے کوئلے پر سیلز ٹیکس میں کمی کی سفارش کردی تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے کوئلے پر 425 روپے فی میٹرک ٹن سیلز ٹیکس عائد ہے، یہ سیلز ٹیکس پہلے ہی بہت کم ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ نئے بجٹ میں دیگر علاقوں میں کوئلہ پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز دیں گے۔

حکام کے مطابق گزشتہ سال ملک میں 7 کروڑ کلو گرام تمباکو کی پیداوار ہوئی، جو پیداوار ہوئی اس میں 1 کروڑ کلو گرام تمباکو برآمد کیا گیا۔ ساڑھے 4 کروڑ کلو گرام تمباکو کمپنیوں نے خریدا، ڈیڑھ کروڑ کلو گرام تمباکو کہاں گیا کچھ پتہ نہیں۔

اجلاس میں منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ بلوچستان کے ڈیموں کے لیے 5 ارب روپے جاری کریں گے۔

اجلاس میں اسٹیٹ بینک حکام نے اسلامی بینکنگ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلامی بینکنگ کے فروغ کے لیے 2001 سے اقدامات کر رہے ہیں، اسلامی بینکنگ برانچز کی تعداد بڑھ کر 2850 ہوگی۔

حکام اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ زرعی ترقیاتی بینک نے اسلامی بینکنگ کا آپریشن شروع کردیا۔

اجلاس میں کمیٹی نے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی سفارش بھی کردی۔ سینیٹر خانزادہ خان نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں۔

کمیٹی رکن عائشہ رضا نے کہا کہ سرمایہ داروں کے لیے بجٹ میں ریلیف ہے مگر ملازمین کے لیے نہیں تاہم وزارت خزانہ نے تنخواہ میں اضافے کی تجویز کی مخالفت کی۔

ایڈیشنل سیکریٹری وزارت خزانہ نے کہا کہ مالی خسارے کی صورتحال سب کے سامنے ہے، تنخواہ میں اضافے کے لیے مالی گنجائش نہیں ہے۔ اضافے کی تجویز آئندہ سال کے بجٹ میں پیش کی جانی چاہیئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں