The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سابق فاٹا میں ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کی ہدایت کردی گئی، کمیٹی نے تمام اسٹیل سیکٹر کے لیے یکساں ٹیکس وصولی کی سفارش بھی کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین فاروق نائیک کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سابق فاٹا میں اسٹیل اور گھی ملوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کردی گئی۔

کمیٹی رکن مرزا آفریدی کا کہنا تھا کہ فاٹا علاقوں کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، فاٹا کی صنعتوں پر 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی گئی۔ کمیٹی نے سابق فاٹا میں ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں پرانے جہاز کے 100 فیصد وزن کے مطابق جی ایس ٹی کی تجویز کی مخالفت کی گئی۔ پرانے جہاز کے 70 فیصد وزن پر سیلز ٹیکس عائد کیا جائے۔ انڈسٹری حکام نے بتایا کہ پرانے جہاز کی درآمد پر 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی لی جا رہی ہے۔ حکومت خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر چکی ہے۔

اجلاس میں پرانے جہاز کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش کی گئی۔ کسٹم حکام نے کہا کہ شپ بریکنگ انڈسٹری پر انکم ٹیکس ساڑھے 4 فیصد لیا جا رہا ہے۔ اسٹیل سیکٹر سے انکم ٹیکس ایک فیصد لیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے تمام اسٹیل سیکٹر کے لیے یکساں ٹیکس وصولی کی سفارش کر دی۔

اجلاس میں فنانس بل 20-2019 پر بھی غور کیا گیا، ٹیکسٹائل شعبے نے 5 برآمدی شعبوں کے لیے زیرو ریٹنگ سہولت ختم کرنے پر احتجاج کیا۔ صنعتکار زبیر موتی والا نے کہا کہ 5 برآمدی شعبوں کے لیے زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم نہ کی جائےاس سے برآمدات متاثر ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ عدم بحالی پر ٹرانزٹ کی آڑ میں افغانستان سے کپڑا درآمد ہوگا، زیرو ریٹنگ کے ایس آر او کو ایکٹ میں تبدیل کیا جائے۔ برآمد کنندگان کے لیے فوری ری فنڈز جاری کیے جائیں۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ برآمد کنندگان کو اپ فرنٹ ری بیٹ ادا کیا جائے گا، کمیٹی ارکان کی اکثریت نے زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم نہ کرنے کی حمایت کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں