site
stats
پاکستان

سانحہ جوزف کالونی، ملزمان کیسے بری ہوگئے؟ چیئرمین سینیٹ نے جواب مانگ لیا

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ نے سانحہ جوزف کالونی کے ملزمان بری ہونے پر پنجاب حکومت سے عدالتی فیصلے کی تفصیلات طلب کرلیں، اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ فوٹیج ہونے کے باوجود ملزمان بری ہوگئے دنیا ہم پر نسل پرستی کا الزام کیوں نہیں لگائے گی۔

یہ بات انہوں نے سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہی۔ سینیٹر اعتراز احسن نے کہا کہ سانحہ بادامی باغ  یا سانحہ جوزف کالونی میں مسیحی خواتین اور گھروں کو جلایا گیا، مسیحی افراد کا فرنیچر گھروں سے نکال کر جلایا گیا،پولیس نے 115 افراد کو ملوث قرار دیا تھا مگر وہ بری ہوگئے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ شاید پراسیکیوٹر نے بروقت گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے لیکن ویڈیو میں واضح دکھائی دینے والے بھی بری ہوگئے ایسی صورتحال میں دنیا ہم پر نسل پرستی کا الزام کیوں نہ لگائے ایسے واقعات سے مسیحی برادری میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

ان کے بیان پر چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت سے کیا تفصیلات حاصل کیں؟رضاربانی کی ہدایت جاری کی کہ واقعے سے متعلق سیشن عدالت کا فیصلہ ایوان کو دیا جائے۔


یہ پڑھیں: سانحہ جوزف کالونی مقدمے میں نامزد ملزمان باعزت بری


 واضح رہے کہ 28 جنوری کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مسیحی بستی جلانے اورسانحہ جوزف کالونی کے مقدمے میں نامزد 115 ملزمان کو ناکافی ثبوتوں کی بناء پربری کر دیا۔
ملزمان پر سال 2013 میں مسیح بستی جوزف کالونی پر حملے کا الزام تھا جس کا مقدمہ تھانہ بادامی باغ میں درج کیا گیا تھا، پولیس نے حملے میں 115 افراد کو نامزد کیا تھا۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے توہین مذہب کے نام پر مسیحی بستی کو آگ لگائی جس کے نتیجے میں سیکڑوں عیسائی بے گھر ہوئے اور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا۔
Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top