سینیٹرزکی دہری شہریت‘ سماعت 10 مارچ تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

سینیٹرزکی دہری شہریت‘ سماعت 10 مارچ تک ملتوی

لاہور : چیف جسٹس آف پاکستان نے آج لاہور رجسٹری میں سینیٹرز کی دہری شہریت کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ نہیں چاہتے کہ ووٹرز کی حق تلفی ہو لیکن عوامی نمائندوں کا بھی دو طرفہ مفادات حاصل کرنے کی روش اختیارات کرنا درست نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سینیٹرز کی دہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کی‘ تحریک انصاف کے رہنماء اور نومنتخب سینیٹر چوہدری سرور نے عدالت میں اپنا بیانِ حلفی جمع کرایا۔

تحریکِ انصاف کے رہنما اور پنجاب اسمبلی سے پی ٹی آئی اے کے واحد رکن سینیٹ چوہدری سرورنے کہا کہ میں 2013 میں برطانوی شہریت چھوڑ چکا ہوں ۔ عدالت نے اس موقع پر چوہدری سرور کو بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کر دی ۔

پی ٹی آئی کی رہنما عندلیب عباسی نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم کی بہن سعدیہ عباسی اور نزہت صادق پانچ پانچ سال دوہری شہریت کے ساتھ پارلیمنٹ کی رکن رہ چکی ہیں جبکہ انہوں نے سینیٹر بننے کے لیے دوہری شہریت چھوڑنے کا فیصلہ کیا جو کہ اہل امیدواروں کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے حقوق کے تحفظ کے لئے بیٹھے ہیں ‘ دوہری شہریت کا فیصلہ سنہ 2012 میں آیا اس کے مطابق ان کی نااہلی تو پھر تب سے شروع ہونی چاہیے۔د وسری جانب نزہت صادق اور سعدیہ عباسی کے وکیل نے استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت جلدی کرلی جائے تاکہ حلف برداری کا مرحلہ مکمل ہو سکے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ نوٹیفکیشن جاری ہوگا تو حلف برداری ہوگی‘ عدالت نے پہلے سماعت 13 مارچ تک ملتوی کی تاہم بعد میں تاریخ تبدیل کر دی گئی ۔عدالت نے قرار دیا کہ 12 کو چیئرمین سینٹ کا الیکشن ہے‘ اس لیے نہیں چاہتے کہ کسی اہل ووٹر کی حق تلفی ہو ۔ عدالت نے سماعت 10 مارچ تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 5 مارچ کو سینٹ کے چار نو منتخب ارکان کی کامیابی کا نوٹی فکیشن نا جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹرز کو پہلے مطمئن کرنا ہوگا کہ وہ دہری شہریت ترک کر چکے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو چاروں سینیٹرز کے نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ کیس کے فیصلے تک الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔

خیال رہے کہ نومنتخب سینیٹرز میں سے چوہدری سرور کا تعلق پاکستان تحریک انصاف جبکہ ہارون اختر، نزہت صادق اور سعدیہ عباسی کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور چاروں افراد پنجاب سے سینیٹرز منتخب ہوئے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں